قدیم مصر کے تباہی کے دیوتا ’اپوفِس‘ کے نام پر رکھا گیا دیوہیکل شہابیہ زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے تاہم ناسا حکام نے واضح کیا ہے کہ اس سے کسی قسم کا خطرہ نہیں۔
ناسا کے مطابق 99942 اپوفِس نامی یہ بڑا شہابیہ 2029 میں زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا لیکن یہ محفوظ فاصلہ ہوگا اور کسی تصادم کا خدشہ موجود نہیں۔ناسا ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی اور نایاب فلکیاتی منظر ہوگا جسے عام آنکھ سے بھی دیکھا جا سکے گا۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ شہابیہ زمین سے تقریباً 20 ہزار میل کے فاصلے سے گزرے گا جو کہ اس سائز کے کسی بھی شہابیے کا غیر معمولی طور پر قریب ترین گزر ہے۔ اس کا حجم تقریباً 1,115 فٹ چوڑا بتایا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فاصلہ زمین کے گرد گردش کرنے والے جیو سنکرونس سیٹلائٹس سے بھی کم ہوگا جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ماہرین فلکیات اس موقع پر خصوصی تحقیق کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔
یورپین خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہوگا جب اس جسامت کا کوئی شہابیہ زمین کے اتنا قریب سے گزرے گا اور انسانوں کو اس کا پہلے سے علم ہوگا۔
یہ فلکیاتی واقعہ 13 اپریل 2029 کو پیش آئے گا، جس نے سوشل میڈیا پر دلچسپی کے ساتھ ساتھ کچھ توہمات کو بھی جنم دیا ہے تاہم ماہرین بار بار یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔