آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر برطانیہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ میں خطرے کی سطح بدستور انتہائی سنگین ہے
جس کے باعث بین الاقوامی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کو شدید خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے دوران متعدد خطرات موجود ہیں
جن میں ممکنہ مداخلت، اچانک ناکہ بندی، بارودی سرنگوں کی اطلاعات اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ شامل ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ اس خطے میں کسی بھی وقت غیر متوقع صورتحال پیدا ہو سکتی ہے
یہ بھی پڑھیں :خلیجی ممالک کا سفر کرنے والوں کیلئے بڑی خبر
جس سے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ حالیہ واقعات، خصوصاً ایرانی فورسز کی جانب سے بعض جہازوں پر کارروائیوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
اسی تناظر میں خلیج عمان کو بھی انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے جہاں جہازوں کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادارے نے مزید بتایا کہ جنوبی اور شمالی بحیرہ احمر میں خطرے کی سطح درمیانی ہے
جبکہ بحیرہ روم میں بھی صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اس کے باوجود ان علاقوں میں جہاز رانی جاری ہے تاہم نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

