عالمی مالیاتی ادارے اور پاکستان کے درمیان جاری مالیاتی تعاون کے پروگرام میں ایک بار پھر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بیل آؤٹ پیکیج کے تحت مزید گیارہ نئی شرائط شامل کر دی گئی ہیں
جس کے بعد مجموعی شرائط کی تعداد 75تک پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال ملکی معاشی پالیسیوں پر عالمی نگرانی میں مزید سختی کی عکاسی کرتی ہے۔
حکومت نے مالیاتی ادارے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ طے شدہ اہداف کے مطابق قومی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔
اس عمل کو پروگرام کی شرائط کے تحت ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔
نئی شرائط کے تحت معاشی ڈھانچے میں کئی بڑی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں جن میں خصوصی اقتصادی اور ٹیکنالوجی زونز کے قوانین میں تبدیلی شامل ہے۔
ان مراعات کو مرحلہ وار ختم کرکے مستقبل میں صرف کارکردگی کی بنیاد پر سہولیات دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے