معاشی اصلاحات کا نیا مرحلہ، پاکستان کے لیے بہتری کی نئی راہیں کھلیں گی

معاشی اصلاحات کا نیا مرحلہ، پاکستان کے لیے بہتری کی نئی راہیں کھلیں گی

عالمی مالیاتی ادارے اور پاکستان کے درمیان جاری مالیاتی تعاون کے پروگرام میں ایک بار پھر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بیل آؤٹ پیکیج کے تحت مزید گیارہ نئی شرائط شامل کر دی گئی ہیں 

جس کے بعد مجموعی شرائط کی تعداد 75تک پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال ملکی معاشی پالیسیوں پر عالمی نگرانی میں مزید سختی کی عکاسی کرتی ہے۔

حکومت نے مالیاتی ادارے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ طے شدہ اہداف کے مطابق قومی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔

اس عمل کو پروگرام کی شرائط کے تحت ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔

نئی شرائط کے تحت معاشی ڈھانچے میں کئی بڑی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں جن میں خصوصی اقتصادی اور ٹیکنالوجی زونز کے قوانین میں تبدیلی شامل ہے۔

ان مراعات کو مرحلہ وار ختم کرکے مستقبل میں صرف کارکردگی کی بنیاد پر سہولیات دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

 یہ بھی پڑھیں :عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

برآمدی زونز کو مقامی مارکیٹ میں فروخت سے روکنے کی شرط بھی شامل ہے تاکہ مالی شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے۔توانائی کے شعبے میں بھی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں

جہاں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدہ ایڈجسٹمنٹ لازمی قرار دی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام اور سرکاری خریداری کے عمل میں بھی اصلاحات کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ بدعنوانی اور غیر شفاف طریقہ کار کو کم کیا جا سکے۔

دوسری جانب سماجی تحفظ کے پروگرام میں بہتری کے لیے امدادی رقوم میں اضافہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *