قطری فضائی حدود اب سب کے لیے دستیاب، ڈرون اور میزائل حملوں کا خوف ختم، ایوی ایشن اتھارٹی کا بڑا اعلان

قطری فضائی حدود اب سب کے لیے دستیاب، ڈرون اور میزائل حملوں کا خوف ختم، ایوی ایشن اتھارٹی کا بڑا اعلان

قطر کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور کشیدگی کے باعث لگائی گئی فضائی پابندیاں ختم کرتے ہوئے غیر ملکی ایئر لائنز کے لیے پروازوں کی ’بتدریج بحالی‘ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ قطر نے اپنی فضائی حدود اور مرکزی ہوائی اڈے کو بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے لیے دوبارہ کھولا ہے۔

یہ پڑھیں:قطر کی فضائی حدود جزوی طور پر بحال

قطر سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے ریاست قطر میں غیر ملکی ایئر لائنز کے آپریشنز کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ’نوٹس ٹو ایئرمین‘ جاری کر دیا گیا ہے‘۔

واضح رہے کہ قطر نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے خلاف ممکنہ ڈرون اور میزائل حملوں کے پیشِ نظر اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی تھی، جسے 7 مارچ 2026 کو صرف قومی ایئر لائن ’قطر ایئرویز‘ کے لیے جزوی طور پر کھولا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود کھولنے کا فیصلہ خطے کی صورتحال کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔ قطری سول ایوی ایشن اتھارٹی نے یقین دلایا ہے کہ فضائی آپریشنز کی بحالی کے دوران تمام مسافروں اور طیاروں کی حفاظت اور سلامتی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ اس اقدام سے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی رابطوں کی بحالی اور بین الاقوامی سفر میں آسانی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والے ایران امریکہ تنازع نے خطے کی فضائی حدود کو دنیا کے خطرناک ترین زونز میں تبدیل کر دیا تھا۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے خدشے کے تحت قطر، جو کہ ایک اہم علاقائی ٹرانزٹ حب ہے، نے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا مشکل فیصلہ کیا تھا۔

اس بندش کی وجہ سے عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان ہوا اور پروازوں کے روٹس طویل ہو گئے۔ 21 اپریل 2026 کو قطر کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ سفارتی محاذ پر کشیدگی میں کسی حد تک کمی آئی ہے، بالخصوص پاکستان کی کامیاب ثالثی اور لبنان میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے بعد اب خلیجی ممالک خود کو زیادہ محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ غیر ملکی ایئر لائنز کی واپسی سے دوحہ ایک بار پھر مشرق اور مغرب کے درمیان ایک کلیدی فضائی پل کے طور پر ابھرے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *