پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے بحری جہاز ’بولان‘ نے قومی ایندھن کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے پیٹرول کی ایک بڑی کھیپ کامیابی سے پاکستان منتقل کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بندرگاہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز عمان کی سوہر بندرگاہ سے 57,300 میٹرک ٹن پیٹرول لے کر پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہو گیا ہے۔ اس کھیپ کی آمد کو ملک میں ایندھن کی فراہمی کے سلسلے کو مستحکم رکھنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بندرگاہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جہاز کے پہنچنے کے بعد منگل کی صبح سے پیٹرول اتارنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا، جس کے بعد اسے ملک بھر کے سپلائی نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔
اسی روز پورٹ قاسم پر بحری سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی اور مجموعی طور پر 10 بحری جہاز لنگر انداز ہوئے، جن میں پیٹرول بردار جہاز کے علاوہ 2 کنٹینر جہاز اور 5 بلک کیریئر بھی شامل تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بحری ٹریفک کی یہ مسلسل سرگرمی ملک کی تجارتی ضروریات اور ایندھن کی طلب کو پورا کرنے کے لیے انتظامیہ کی مستعدی کو ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان کو حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے ایندھن کے ذخائر کو برقرار رکھنے میں چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔
بالخصوص اپریل 2026 میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی سمندری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی سیکیورٹی ایک بڑا سوال بن گئی تھی۔ ایسے نازک وقت میں پی این ایس سی کے جہاز ’بولان‘ کی جانب سے عمان سے پیٹرول کی یہ بڑی کھیپ کامیابی سے پہنچانا ایک بڑی تزویراتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔
اس سے نہ صرف ملک میں پیٹرول کی ممکنہ قلت کا خطرہ ٹل جائے گا بلکہ مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ پورٹ قاسم پر دیگر تجارتی جہازوں کی مسلسل آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی بحری گزرگاہیں اور تجارتی بندرگاہیں عالمی کشیدگی کے باوجود محفوظ اور فعال ہیں۔