اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کو روکنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس (1 فیصد) اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
پیر کے روز ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اہم اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، پالیسی ریٹ کو 10.50 فیصد سے بڑھا کر 11.50 فیصد کر دیا گیا ہے۔ شرح سود میں اس اضافے کا اطلاق 28 اپریل سے ہوگا۔
اجلاس کے اہم نکات اور فیصلے
مرکزی بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مارچ کے دوران شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا، تاہم حالیہ معاشی اشاریوں اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر اب یہ اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں کے استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ دسمبر 2025 میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی گئی تھی، مگر موجودہ صورتحال میں روپے کی قدر اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسی کو سخت کرنا ضروری ہو گیا تھا۔
مستقبل کی حکمتِ عملی
اسٹیٹ بینک کا موقف ہے کہ وہ ملکی مہنگائی کے رجحانات اور بیرونی اکاؤنٹ کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ مرکزی بینک نے واضح کیا کہ اس اضافے کا مقصد معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے تاکہ طویل مدتی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
شرح سود اور معاشی استحکام کا اتار چڑھاؤ
پاکستان کی معیشت گزشتہ ایک سال سے مہنگائی کے شدید دباؤ اور عالمی مارکیٹ میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کر رہی ہے۔ دسمبر 2025 میں جب مہنگائی کے اعداد و شمار میں معمولی بہتری آئی تھی، تو اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 10.5 فیصد پر لا کر صنعت کاروں کو ریلیف دینے کی کوشش کی تھی۔
مارچ 2026 کے اجلاس میں مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی، تاکہ پچھلے فیصلوں کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے اور معاشی استحکام کی کوششوں کو سہارا ملے۔
حالیہ مہینوں میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے نے اسٹیٹ بینک کو دوبارہ پالیسی سخت کرنے پر مجبور کیا ہے۔ شرح سود میں اضافے کا مقصد عام طور پر گردشِ زر کو کم کرنا ہوتا ہے تاکہ طلب میں کمی لا کر مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ تاہم، اس کا براہ راست اثر بینکوں سے قرض لینے والے صارفین اور صنعت کاروں پر پڑتا ہے۔