چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ بحرِ ہند ایک نہایت اہم خطہ ہے جہاں مستقبل کی جنگی حکمت عملی تشکیل پا رہی ہے، اور اس خطے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تجارت اور معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی میں میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلینس کے زیر اہتمام “جدید ٹیکنالوجیز اور مستقبل کی جنگ” کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کا مقصد بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹیجک رجحانات اور جنگ پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ تقریب میں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
نیول چیف نے اپنے خطاب میں جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے دفاعی صنعت، صارفین اور تعلیمی اداروں کے مابین باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار اور خود انحصاری کے فروغ سے پاکستان میں کم لاگت اور عالمی معیار کی حامل دفاعی صنعت قائم کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بحرِ ہند سے عالمی تجارت کی وسیع آمدورفت ہوتی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ تیز رفتار تکنیکی ترقی جنگ کی نوعیت کو تبدیل کر رہی ہے، جبکہ دفاعی حکمتِ عملیوں کو بھی ازسرِنو متعین کیا جا رہا ہے۔
تقریب میں اعلیٰ عسکری قیادت، پالیسی سازوں، سفارتکاروں، ماہرینِ تعلیم، صنعتی ماہرین اور طلبہ نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران مستقبل کے جنگی رجحانات سے ہم آہنگی کے لیے مسلسل علمی و فکری تعاون پر زور دیا گیا۔