امریکا کے مشہور میگزین “”ںیو یارکر” نے بھارتی حکومت کی جانب سے بیرون ملک سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے منصوبے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مشہور امریکی میگزین نیو یارکر نے بیرون ملک سکھ علیحدگی پسند رہنماؤں کے قتل پر تفصیلی رپورٹ شائع کر دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر نے ہلاکت سے ایک رات پہلے گرپتونت سنگھ پنن کو خطرے کی اطلاع دی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 18 جون 2023 کو نجر کو وینکوور کے ایک گوردوارے کے باہر دو مسلح افراد نے 50 گولیاں چلا کر ہلاک کر دیا جبکہ کینیڈا کے حکام نے پہلے ہی نجر کو بھارت سے درپیش خطرات سے آگاہ کر دیا تھا۔
امریکی میگزین نے بتایا کہ کینیڈا اور امریکا کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ یہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والا قتل ہے، قتل کے کچھ دنوں بعد ہی وزیراعظم نریندر مودی کو وائٹ ہاؤس میں اعزاز کے ساتھ پذیرائی ملی۔
امریکی محکمہ انصاف نے اس حوالے سے بتایا کہ بھارتی انٹیلیجنس کے ایک اہلکار کی ہدایت پر نکیل گپتا نے امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنن کے قتل کی سازش رچائی اور گپتا نے ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے ایک خفیہ اہلکار کو ادائیگی بھی کی۔
مزید پڑھیں: بھارت نے حملہ کیا تو پاکستان کا دفاع کریں گے، خالصتانی سکھوں کا اعلان
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادائیگی کے ثبوت میں نقد رقم کی ترسیل، ہتھیاروں کی پیش کش، منشیات کے سودے اور نجر کی لاش کی 7 سیکنڈ کی ویڈیو بھی شامل ہے۔
امریکی میگزین کی رپورٹ میں گپتا کے ہینڈلر کو وکاش یادیو بتایا گیا ہے، جو ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسی راکے سابق افسر ہیں جبکہ امریکی دباؤ کے بعد بھارت نے 2024 میں یادیو سے “تعلقات منقطع” کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی اہلکاروں نے نجی طور پر سرکاری سطح پر انکار کو بالکل جھوٹ قرار دیا اور اسے ناقص آپریشن تسلیم کیا۔
مزید بتایا گیا کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک تقسیم ہند کے بعد سے ہونے والے طویل عرصے کے امتیاز اور تشدد کا نتیجہ ہے، 1984 کے آپریشن بلیو اسٹار، فسادات اور اجتماعی گمشدگیوں نے سکھ کمیونٹی میں ہندوستانی ریاست کے خلاف عدم اعتماد کو جنم دیا۔
نیویارکر کے مطابق بیرون ملک مقیم سکھ اب احتجاج یا گوردواروں میں جانے سے خوف زدہ ہیں، بیرون ملک مقیم سکھوں کے بھارت میں مقیم خاندانوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کا بھارت کے خلاف بڑا فیصلہ

