افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جنوبی وزیرستان میں دو خواتین سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔
Home - آزاد انتخاب - افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جنوبی وزیرستان میں دو خواتین سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔
افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جنوبی وزیرستان میں دو خواتین سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ کے گاؤں زلول میں افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین اور ایک مرد شدید زخمی ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے گاؤں زلول خیل میں آرٹلری گولہ بھی فائر کیا گیا، جس کے نتیجے میں رحیم اللہ، رحیم اللہ کی اہلیہ اور زین اللہ کی اہلیہ زخمی ہو گئیں۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان گزشتہ کئی دنوں سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان میں دراندازی کے ذریعے داخل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم پاک فوج کی بروقت اور چوکس کارروائی کے باعث دراندازی کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔
ذرائع کے مطابق اپنی ناکامی کے بعد افغان طالبان نے مبینہ طور پر انگور اڈہ کے علاقے میں پاکستان کی سول آبادی کو نشانہ بنایا،زخمی افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
علاقہ مکینوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاک فوج سے مؤثر جوابی کارروائی کا مطالبہ کیا ہےواضح رہے کہ آپریشن غضب الحق کے تحت پاکستان نے افغانستان میں مبینہ خوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں خوارج کو نقصان پہنچنے کے بعد وہ مختلف علاقوں میں دباؤ کا شکار ہیں، اور اسی تناظر میں سرحدی علاقوں میں سکیورٹی صورتحال کشیدہ ہوئی ہے۔
اس سے قبل بھی افغان طالبان کی جانب سے دیر، باجوڑ، اورکزئی، طورخم اور شمالی وزیرستان کے علاقوں میں سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔