انٹر پول نے ملک ریاض اور علی ریاض ملک کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیئے

انٹر پول نے ملک ریاض اور علی ریاض ملک کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیئے

ریئل اسٹیٹ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے خلاف نیب نے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کے مطابق یہ ریڈ نوٹس مبینہ طور پر ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ہونے والی کرپشن کے مقدمات کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد متعلقہ افراد کو تلاش کرنا اور قانونی کارروائی کے لیے ان کی حوالگی کو ممکن بنانا ہے۔

نیب کے مطابق یہ کارروائی انٹرپول کے نظام کے تحت کی گئی ہے، تاہم یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ انٹرپول کا ریڈ نوٹس کسی بھی ملک میں براہِ راست بین الاقوامی گرفتاری کا حکم نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک درخواست ہوتی ہے جس کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی مطلوب شخص کی موجودگی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز کے مطابق ملک ریاض کے خلاف مبینہ طور پر نو سو ارب روپے سے زائد کی کرپشن سے متعلق تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب ملک ریاض اس وقت متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ ان کی ریئل اسٹیٹ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق دبئی ساؤتھ میں ایک بڑا رہائشی اور تجارتی منصوبہ بھی جاری ہے جو المکتوم ایئرپورٹ کے قریب واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران ہمسایہ ملک، قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، شہباز شریف

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی نیب کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ چکا ہے کہ حکومتِ پاکستان قانونی ذرائع کے ذریعے متحدہ عرب امارات سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے رابطے کر رہی ہے۔

Related Articles