لاہور کا 400 سال پرانا ’سپر کمپیوٹر‘ لندن میں کروڑوں میں نیلامی کیلئے تیار

لاہور کا 400 سال پرانا ’سپر کمپیوٹر‘ لندن میں کروڑوں میں نیلامی کیلئے تیار

لاہور میں تیار کیا گیا چار سو سال قدیم ایک نایاب فلکیاتی آلہ دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جسے اب برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

اور اس کی مالیت تقریباً94 کروڑ روپے لگائی گئی ہے۔ یہ تاریخی اسطرلاب جسے آج کے دور میں ایک طرح کا قدیم سپر کمپیوٹر بھی کہا جا رہا ہے اپنے وقت کی سائنسی مہارت اور ذہانت کی اعلیٰ مثال سمجھا جا رہا ہے۔

یہ منفرد آلہ سترہویں صدی کے اوائل میں لاہور میں تیار کیا گیا تھا جب یہ شہر سائنسی آلات کی تیاری کا ایک اہم مرکز مانا جاتا تھا۔

اسطرلاب کو دو ماہر کاریگروں قائم محمد اور محمد مقیم نے ایک مغل درباری آقا افضل کے لیے تیار کیا تھا جو شہنشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے دور میں خدمات انجام دے چکے تھے۔

ؐ  یہ بھی پڑھیں :دنیا کا طاقتور ترین کمپیوٹر متعارف، مستقبل میں کون سے ممالک کامیاب اور کونسے ناکام ہو نگے یہ سب بتا ئے گا

  دونوں بھائیوں نے اپنی زندگی میں صرف دو ایسے آلات تیار کیے، جس کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔یہ نایاب اسطرلاب طویل عرصے تک جے پور کے شاہی خاندان کے نجی ذخیرے کا حصہ رہا، جہاں اسے محفوظ رکھا گیا تھا۔

اب اسے معروف نیلام گھر سوتھبیز کی گیلری میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے جہاں دنیا بھر سے ماہرین، کلیکٹرز اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اسے دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں۔

 اسطرلاب ماضی میں ایک ہمہ جہت سائنسی آلہ تھا جس کے ذریعے سورج کے طلوع و غروب کے اوقات، فاصلے، عمارتوں کی اونچائی اور دیگر فلکیاتی حسابات لگائے جا سکتے ہیں ۔

 یہ بھی پڑھیں :اے آئی سپر کمپیوٹر کب لانچ ہونگے؟

بعض ماہرین اسے آج کے اسمارٹ آلات کا ابتدائی روپ بھی قرار دیتے ہیں کیونکہ اس سے متعدد کام انجام دیے جاتے تھے۔

  تاریخی ایجاد نہ صرف برصغیر کی سائنسی ترقی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ لاہور صدیوں پہلے علم و ہنر کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔

اس نیلامی کے بعد یہ نادر خزانہ کسی بڑے عالمی کلیکشن کا حصہ بن سکتا ہے، جس سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

editor

Related Articles