دنیا کا طاقتور ترین کمپیوٹر مستقبل میں یہ پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو سکتا ہے کہ کون سی کمپنیاں اور کون سے ممالک کامیاب ہوں گے اور کون ناکام۔
تفصیلات کے مطابق کوانٹم کمپیوٹنگ نامی یہ نئی ٹیکنالوجی عالمی معیشت، سکیورٹی، کرپٹو کرنسی اور حکومتی رازوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔بی بی سی کے مطابق کیلیفورنیا میں گوگل کے کوانٹم اے آئی لیب میں تیار کیا گیا ’ولو‘ نامی کوانٹم کمپیوٹر ہوا میں معلق ایک سنہری فانوس جیسا نظر آتا ہے۔
یہ سینکڑوں تاروں سے جڑا ایک پیچیدہ نظام ہے جو کائنات کے سب سے کم درجہ حرارت پر کام کرتا ہے۔یہ کمپیوٹر روایتی کمپیوٹرز کے مقابلے میں ناقابلِ تصور حد تک تیز ہے۔ ایسے مسائل جو دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹرز کو حل کرنے میں کائنات کی عمر سے بھی زیادہ وقت لگتا، ولو نے وہ چند منٹوں میں حل کر دیے۔
کوانٹم کمپیوٹر عام کمپیوٹرز کی طرح صرف صفر اور ایک پر کام نہیں کرتے بلکہ ’کیوبٹس‘ کے ذریعے ایک ہی وقت میں کئی حالتوں میں ڈیٹا پروسیس کر سکتے ہیں۔
ولو چپ میں 105 کیوبٹس موجود ہیں، جبکہ مستقبل میں ایک ملین کیوبٹس تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔گوگل کے کوانٹم چیف ہارٹمٹ نیون کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ادویات کی تیاری، خوراک کی پیداوار، توانائی کے ذخیرے، ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی بھوک جیسے بڑے مسائل کے حل میں مدد دے سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ’پی اے ای سی‘ امن و ترقی کے لیے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا علم بردار ہے، ڈاکٹر علی رضا انور

