ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد خام تیل دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، صورتحال نے عالمی معیشت کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
برطانوی خام تیل کی قیمت میں 2.90 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 108.23 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جبکہ امریکی خام تیل بھی 1.97 ڈالر اضافے کے ساتھ 96.37 ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس اہم گزرگاہ سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی کشیدگی فوری طور پر عالمی مارکیٹ کو متاثر کرتی ہے۔
دوسری جانب بڑی عالمی معیشتوں میں صنعتی سرگرمیوں میں اضافے نے بھی تیل کی طلب کو بڑھا دیا ہے۔ چین اور امریکا جیسے ممالک میں توانائی کی بڑھتی ضروریات قیمتوں کو مزید اوپر لے جا رہی ہیں جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور معاشی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال زیادہ تشویشناک ہے جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے امریکا کو جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق نئی تجاویز دی گئی ہی جن پر غور جاری ہے، اور ان مذاکرات کے نتائج آئندہ دنوں میں عالمی تیل کی قیمتوں کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔