امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی تازہ ترین تجویز کو ناپسندیدگی کے بعد مسترد کر دیا ہے، جس سے 2 ماہ سے جاری اس خونی تنازع کے خاتمے کی امیدیں مزید کمزور ہو گئی ہیں۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ادارے کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ پیر کو اپنے مشیروں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ایران کے اس مؤقف پر شدید برہم نظر آئے کہ جوہری پروگرام پر بحث کو جنگ کے خاتمے تک مؤخر کر دیا جائے۔
ایرانی تجویز اور امریکی تحفظات
ایران کی جانب سے پیش کردہ مسودے میں کہا گیا تھا کہ جوہری پروگرام پر مذاکرات اس وقت شروع کیے جائیں جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ ختم ہو جائے اور خلیج میں بحری جہازوں کی آمد و رفت (شپنگ) سے متعلق تنازعات حل ہو جائیں۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جوہری خطرات کو ابتدا ہی میں حل کرنا ہوگا اور اسے کسی بھی معاہدے کی پہلی شرط ہونا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا اپنی ‘سرخ لکیروں’ (ریڈ لائنز) کے بارے میں واضح ہے اور وہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات کرنے کے بجائے ٹھوس نتائج چاہتا ہے۔
جنگ کے ہولناک اثرات
فروری 2026 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی اس براہِ راست جنگ نے اب تک ہزاروں انسانی جانیں نگل لی ہیں۔ اس تنازع نے نہ صرف عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع دہائیوں پر محیط ہے، 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے اقتصادی پابندیوں میں نرمی حاصل کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اس معاہدے کو ’بدترین‘ قرار دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ (میکسمم پریشر) کی پالیسی نافذ کر دی تھی۔
موجودہ تنازع فروری 2026 میں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست تصادم کے بعد ایران نے ایک بار پھر اپنے جوہری اثاثوں کو سیکیورٹی کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے، جسے امریکا اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔