دنیا میں سائنس اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ پچھلے5سالوں میں ترقی اتنی تیز ہو گئی ہے کہ جو چیزیں کبھی صرف خیال لگتی تھیں وہ اب حقیقت بن رہی ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ترقی انسان کے لیے فائدہ بھی ہےلیکن اس کے ساتھ کچھ خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
اے آئی نے کام آسان کر دیا
ڈیپ سیک نے سائنسدانوں کا کام بہت تیز کر دیا ہے۔پہلے پروٹینز (جو ہمارے جسم کا اہم حصہ ہوتے ہیں) کو سمجھنے میں سال لگ جاتے تھے، اب وہی کام چند لمحوں میں ہو رہا ہے۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ نئی دوائیں جلد بن سکتی ہیں اور بیماریوں کا علاج آسان ہو سکتا ہے۔
جیمز سیب سپیس ٹیلی سکوپ کی مدد سے سائنسدانوں نے بہت پرانی کہکشائیں دریافت کی ہیں۔یہ کہکشائیں بگ بینگ کے کچھ ہی عرصے بعد بن گئی تھیں، جس سے ہمیں کائنات کی ابتدا کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔
طب میں نئی امید
اب ڈاکٹر جین ایڈیٹنگ کے ذریعے کچھ موروثی بیماریوں کا علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ایم آراین اے ٹیکنالوجی نے بھی جسم کے دفاعی نظام کو بہتر سمجھنے میں مدد دی ہے، جس سے مستقبل میں بہتر ویکسین اور علاج ممکن ہوں گے۔
جہاں یہ سب فائدہ مند ہے وہیں کچھ مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جیسے کہ اے آئی کی وجہ سے نوکریوں پر اثر پڑ سکتا ہے اور پرائیویسی کے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب سائنس کی ترقی سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں ہو رہی ہے۔یعنی آنے والے وقت میں دنیا اور بھی تیزی سے بدلے گی اور ہمیں اس کے ساتھ خود کو تیار کرنا ہوگا
دنیا میں سائنس اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ پچھلے پانچ سالوں میں ترقی اتنی تیز ہو گئی ہے کہ جو چیزیں کبھی صرف خیال لگتی تھیں، وہ اب حقیقت بن رہی ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ترقی انسان کے لیے فائدہ بھی ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ڈیپ سیک نے سائنسدانوں کا کام بہت تیز کر دیا ہے۔پہلے پروٹینز (جو ہمارے جسم کا اہم حصہ ہوتے ہیں) کو سمجھنے میں سال لگ جاتے تھے، اب وہی کام چند لمحوں میں ہو رہا ہے۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ نئی دوائیں جلد بن سکتی ہیں اور بیماریوں کا علاج آسان ہو سکتا ہے۔
خلاء کے راز سامنے آ رہے ہیں
جیمز سیب سپیس ٹیلی سکوپ کی مدد سے سائنسدانوں نے بہت پرانی کہکشائیں دریافت کی ہیں۔یہ کہکشائیں بگ بینگ کے کچھ ہی عرصے بعد بن گئی تھیں، جس سے ہمیں کائنات کی ابتدا کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔
اب ڈاکٹر جین ایڈیٹنگ کے ذریعے کچھ موروثی بیماریوں کا علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ایم آراین اے ٹیکنالوجی نے بھی جسم کے دفاعی نظام کو بہتر سمجھنے میں مدد دی ہے، جس سے مستقبل میں بہتر ویکسین اور علاج ممکن ہوں گے۔
جہاں یہ سب فائدہ مند ہے وہیں کچھ مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جیسے کہ اے آئی کی وجہ سے نوکریوں پر اثر پڑ سکتا ہے اور پرائیویسی کے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب سائنس کی ترقی سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں ہو رہی ہے۔یعنی آنے والے وقت میں دنیا اور بھی تیزی سے بدلے گی اور ہمیں اس کے ساتھ خود کو تیار کرنا ہوگا.