کہیں بادلوں کا راج تو کہیں سورج کا قہر، موسم کے دو رخ سامنے آگئے

کہیں بادلوں کا راج تو کہیں سورج کا قہر، موسم کے دو رخ سامنے آگئے

پاکستان کے مختلف حصوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث موسم کے متضاد رنگ دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ایک جانب پنجاب اور سندھ کے بالائی اضلاع میں بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا ہے، تو دوسری جانب شہرِ قائد شدید گرمی اور مرطوب موسم کی لپیٹ میں ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے شہروں لودھراں، وہاڑی، بورے والا، رحیم یار خان اور راجن پور میں بادل جم کر برسے، تاہم جہانیاں میں بارش کے دوران ایک مکان کی دیوار گرنے سے 3 افراد زخمی ہو گئے۔

لاہور اور اسلام آباد کی صورتحال

صوبائی دارالحکومت لاہور میں رات گئے ہونے والی بارش کے بعد درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہو کر 27 ڈگری سینٹی گریڈ تک آ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں ہوا کی رفتار 13 کلومیٹر فی گھنٹہ اور نمی کا تناسب 54 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید گرمی کی نئی لہر کے حوالے سے تازہ موسمی الرٹ جاری کر دیا

 لاہور کے آسمان پر 78 فیصد بادلوں کا راج ہے اور دن بھر سورج و بادلوں کی آنکھ مچولی جاری رہنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (شہرِ اقتدار) میں بھی بادلوں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں، جہاں صبح کے وقت درجہ حرارت 25 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، تاہم دن میں پارہ 37 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔

سندھ میں بارش اور کراچی میں گرمی کا قہر

سندھ کے اضلاع گھوٹکی اور اوباڑو میں تیز آندھی کے بعد ہلکی بارش ہوئی، جبکہ قمبر، شہداد کوٹ، سکھر اور شکارپور میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ اس کے برعکس کراچی میں صورتحال تشویشناک ہے جہاں محکمہ موسمیات نے ‘ہیٹ ویو’ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ شہرِ قائد میں آج درجہ حرارت 37 ڈگری تک جا سکتا ہے، مگر حبس کے باعث گرمی کی شدت 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جائے گی۔

النینو اور موسمیاتی تبدیلیاں

پاکستان اس وقت عالمی موسمیاتی رجحان ’النینو‘ کے زیرِ اثر ہے، جس کے باعث ملک میں معمول سے زیادہ گرمی پڑنے کا امکان پہلے ہی ظاہر کیا جا چکا تھا۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی اور جون میں اس طرح کی بارشیں ’پری مون سون‘ کا حصہ ہیں، لیکن ان کی شدت اور اچانک آمد کلائمیٹ چینج کی واضح علامت ہے۔

سندھ کے چھوٹے شہروں میں نکاسیِ آب کا نظام ناقص ہونے کی وجہ سے معمولی بارش بھی سیلابی صورتحال پیدا کر دیتی ہے، جیسا کہ سکھر اور شکارپور میں دیکھا گیا۔ کراچی میں سمندری ہواؤں کی رفتار کم ہونے اور کنکریٹ کی عمارتوں کی کثرت کی وجہ سے درجہ حرارت اصل سے کہیں زیادہ محسوس ہوتا ہے، جسے ‘فیلز لائک’ ٹمپریچر کہا جاتا ہے۔

Related Articles