امریکی ناکہ بندی سے ایران کے کتنے جہاز سمندر میں پھنس گئے؟ اہم تفصیلات آگئیں

امریکی ناکہ بندی سے ایران کے کتنے جہاز سمندر میں پھنس گئے؟ اہم تفصیلات آگئیں

امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز پر سخت بحری نگرانی اور ناکہ بندی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے سے متعلق سخت مؤقف اور اس معاملے پر کسی واضح اتفاقِ رائے یا سفارتی پیش رفت نہ ہونے کے باعث خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے اسی لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا عسکری تناؤ دنیا بھر کی معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح ایران خود بھی اس کشیدہ صورتحال سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے کیونکہ امریکی دباؤ اور بحری پابندیوں نے ایرانی تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی اہم بندرگاہ چاہ بہار پر 20 سے زائد ایرانی تجارتی جہاز پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ناکہ بندی سے قبل چاہ بہار بندرگاہ پر روزانہ اوسطاً پانچ جہاز لنگر انداز ہوتے تھے تاہم موجودہ صورتحال میں بحری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور بڑی تعداد میں جہاز بندرگاہ پر رکے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے ایران کی نئی شرائط مسترد کر دیں،امریکی وزیر خارجہ مارکو ربیو نے سخت ردعمل بھی دے دیا

سینٹکام کا کہنا ہے کہ امریکی اقدامات کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانا اور اس کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں بحری تجارت، درآمدات و برآمدات اور علاقائی تجارتی توازن بھی متاثر ہو رہا ہے۔

 اگر امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی کم نہ ہوئی تو نہ صرف خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سپلائی چین، شپنگ انڈسٹری اور کئی ممالک کی داخلی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles