پلاسٹک کے خلاف زیروٹالرنس پالیسی کا اعلان

پلاسٹک کے خلاف زیروٹالرنس پالیسی کا اعلان

پنجاب حکومت نے صوبے کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک کرنے کے لیے ‘پلاسٹک فری پنجاب’ مہم کے تحت بڑے فیصلے کر لیے ہیں۔ لاہور سمیت صوبے بھر کے تمام بڑے بازاروں کو ‘پلاسٹک فری زونز’ قرار دے کر وہاں ممنوعہ پلاسٹک بیگز کے خلاف آپریشن کا عملی نفاذ شروع کر دیا گیا ہے۔

محکمہ تحفظِ ماحول (ای پی اے) نے گزشتہ 4 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس عرصے کے دوران صوبے بھر سے 9 لاکھ 37 ہزار کلوگرام سے زیادہ غیر معیاری پلاسٹک بیگز قبضے میں لیے جا چکے ہیں۔

زیرو ٹالرنس پالیسی اور انٹیلیجنس آپریشنز

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ نے واضح کیا ہے کہ اب وارننگ کا وقت ختم ہو چکا ہے اور حکومت نے ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی اپنا لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینے کے حیرت انگیز اور خطرناک نقصانات

انہوں نے بتایا کہ 75 مائیکرون سے کم موٹائی والی پلاسٹک کی تھیلیوں پر جلد مکمل پابندی عائد ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں انٹیلیجنس بیسڈ ٹارگٹڈ آپریشنز شروع کر دیے گئے ہیں اور ممنوعہ پلاسٹک بنانے والے بڑے نیٹ ورکس اور کارخانوں کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ جرمانے کیے گئے ہیں، جبکہ ملتان اور راولپنڈی پلاسٹک کی ضبطی میں سرفہرست رہے ہیں۔

پنجاب میں پلاسٹک کا بحران اور قانونی ڈھانچہ

پنجاب میں پلاسٹک کے خلاف مہم کئی سالوں سے جاری ہے، مگر موجودہ انتظامیہ نے اسے ایک نئی شدت دی ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق انتہائی باریک پلاسٹک (75 مائیکرون سے کم) مٹی میں تحلیل نہیں ہوتا اور نالیوں کی بندش کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے حکومت نے اس کی تیاری اور فروخت کو جرم قرار دیا ہے۔

لاہور جیسے شہروں میں مون سون کے دوران نالے بند ہونے کی بڑی وجہ پلاسٹک کا کچرا ہے۔ اس کے علاوہ پلاسٹک کو جلانے سے پیدا ہونے والا زہریلا دھواں موسمِ سرما میں سموگ کی شدت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

ماضی میں بھی کئی بار پابندی لگی مگر انتظامی کمزوریوں اور متبادل فراہم نہ ہونے کی وجہ سے پلاسٹک بیگز کا استعمال دوبارہ شروع ہو گیا، جس کا ازالہ اب سخت سزاؤں سے کیا جا رہا ہے۔

کریک ڈاؤن کے اثرات اور پائیدار حل کے چیلنجز

پلاسٹک کے خلاف موجودہ سخت اقدامات کے نتائج مثبت برآمد ہو سکتے ہیں، تاہم چند پہلو توجہ طلب ہیں، انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور ایف آئی آر کے اندراج سے بڑے سپلائرز میں خوف پیدا ہوگا، جس سے سپلائی چین متاثر ہوگی۔ مینوفیکچرنگ یونٹس کو سیل کرنا اس مسئلے کا جڑ سے خاتمہ کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔

پلاسٹک کی صنعت سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ صرف کریک ڈاؤن کافی نہیں ہوگا، حکومت کو بائیو ڈی گریڈیبل (گل سڑ جانے والے) بیگز اور کپڑے کے تھیلوں کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے مراعات دینی ہوں گی۔

جب تک عوام خود کپڑے کے تھیلے استعمال کرنے کی عادت نہیں ڈالیں گے، خفیہ فروخت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ’پلاسٹک فری زونز‘ کا قیام عوام کی تربیت کے لیے ایک بہترین ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Articles