امریکی ویزا قوانین میں تبدیلی، درخواست گزاروں کیلئے اہم خبر آگئی

امریکی ویزا قوانین میں تبدیلی، درخواست گزاروں کیلئے اہم خبر آگئی

امریکا میں ویزے کیلئے درخواست دینے والوں کیلئے اہم خبر آگئی ، امریکا نے نان امیگرنٹ ویزا درخواست دہندگان کیلئے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے 2 نئے سوالات شامل کر دیے ہیں  جن کا مقصد یہ تصدیق کرنا ہے کہ درخواست گزار اپنے ملک واپس جانے سے خوفزدہ نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار دی گارجین نے انکشاف کیا ہے کہ ویزا انٹرویو کے دوران تمام درخواست دہندگان سے 2 نئے سوالات پوچھے جائیں گے کہ  کیا آپ کو اپنے ملک میں کسی نقصان یا بدسلوکی کا سامنا رہا ہے ؟ کیا آپ کو اپنے ملک واپس جانے پر کسی نقصان یا بدسلوکی کا خوف ہے؟

حکام کے مطابق اگر کوئی درخواست گزار ان سوالات کے جواب میں ہاں کہتا ہے یا جواب دینے سے گریز کرتا ہے تو اس کا عارضی ویزا مسترد کیے جانے کا امکان یقینی ہو گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکام کے مطابق بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری امریکا میں پناہ لینے کے دعوے کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کویت میں ورک ویزا سے فیملی ویزا کیسے تبدیل کریں؟ مکمل ، آسان طریقہ جانیے

اس نئی پالیسی کا اطلاق تمام نان امیگرینٹ ویزا کیٹیگریز پر ہو گا جن میں سیاحتی، تعلیمی، ایچ ون بی، ٹیک ورکرز، زرعی مزدور اور کاروباری افراد شامل ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں ان کیٹیگریز میں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ ویزے جاری کیے گئے تھے، تاہم قانونی ماہرین نے اس فیصلے پر اظہارتشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اصول حقیقی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ نئی پالیسی ایسے افراد کو بھی روک سکتی ہے جو گھریلو تشدد، صحافتی دھمکیوں یا مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کا شکار ہوں۔

ماہرین کے مطابق امریکی قوانین اور 1951ء کے ریفیوجی کنونشن کے تحت پناہ کے حقوق کسی فرد کے داخلے کے طریقہ کار یا ویزا انٹرویو میں دیے گئے بیان پر منحصر نہیں ہوتے، تاہم نئی پالیسی میں ان قانونی تحفظات کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔

editor

Related Articles