عام طور پر لوگ حکمت دانت جسے انگریزی زبان میں ’ویسٹم ٹوتھ‘کہا جاتا ہے یہ عموما تکلیف دہ اور فضول اضافی دانت سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے اسے اکثرنکلوا دیا جاتا ہے لیکن نئی سائنسی تحقیق نے اس سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق حکمت کے دانتوں کے اندر موجود نرم حصے جسے ڈینٹل پلپ کہا جاتا ہے میں ایسے خاص خلیات پائے جاتے ہیں جو جسم کے لیے ’’اسٹیم سیلز‘‘ کہلاتے ہیں۔یہ خلیات عام خلیات نہیں ہوتے بلکہ جسم کی وہ بنیادی ساخت ہیں جو مختلف قسم کے ٹشوز میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :128 سال سے گرفتار درخت، لنڈی کوتل کی حیران کن کہانی
ماہرین کے مطابق یہ اسٹیم سیلز دل کے پٹھوں کو بحال کرنے، دماغی بیماریوں جیسے فالج اور پارکنسنز میں مدد دینے اور ہڈیوں و کارٹلیج کی مرمت تک میں استعمال ہو سکتے ہیں۔یعنی ایک دانت کے اندر ایسا مواد موجود ہو سکتا ہے جو انسانی جسم کی مرمت میں اہم کردار ادا کرے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ دانت عموماً 17 سے 25 سال کی عمر میں نکالے جاتے ہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اسٹیم سیلز سب سے زیادہ طاقتور اور مؤثر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :آٹھ سال میں صرف ایک بار کھلنے والا پودا ،نایاب ’سنو لوٹس‘ خطرے میں
ماہرین کے مطابق یہ خلیات کسی پیچیدہ یا متنازع طبی عمل کے بغیر حاصل کیے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ وہ دانت ہیں جو ویسے ہی نکال دیے جاتے ہیں۔اسی وجہ سے کچھ بایو ٹیک کمپنیز اب حکمت کے دانتوں سے حاصل ہونے والے اسٹیم سیلز کو منجمد کر کے محفوظ کرنے کا عمل بھی شروع کر رہی ہیں بالکل اسی طرح جیسے نوزائیدہ بچوں کے ’کورڈ بلڈ‘ کو محفوظ کیا جاتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے نتائج میڈیکل سائنس میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں یعنی جو دانت آج تک ہم فضول سمجھ کر نکال دیتے تھےوہ مستقبل میں انسانی جسم کی مرمت کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

