خیبر پختونخوا کے علاقے لیڈی کوتل میں ایک ایسا درخت موجود ہے جو صرف درخت نہیں بلکہ ایک عجیب و غریب کہانی بن چکا ہے۔
تاریخی چھاؤنی کے اندر کھڑا یہ اخروٹ کا درخت بظاہر عام لگتا ہے مگر اس کے ساتھ جڑی داستان ہر سننے والے کو حیران کر دیتی ہے۔ درخت کے ساتھ ایک بورڈ لگا ہے جس پر لکھا ہے’مجھے گرفتار کرلیا گیا ہے‘
کہانی کچھ یوں ہے کہ برطانوی دور میں ایک نشے میں دھت فوجی افسر کو اچانک لگا کہ یہ درخت اپنی جگہ سے ہل رہا ہے۔ اسے یہ وہم اتنا سچ لگا کہ اس نے فوراً حکم دے دیا کہ درخت کو ’گرفتار‘ کر لیا جائے۔
حکم کی تعمیل بھی ہوئی۔ درخت کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا اور ایک باقاعدہ تختی لگا دی گئی جیسے کوئی قیدی ہو۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ زنجیریں آج بھی اس درخت کے ساتھ موجود ہیں جیسے وقت وہیں رک گیا ہو۔
مقامی افراد کے مطابق یہ واقعہ اب حقیقت سے زیادہ ایک روایت بن چکا ہے مگر اس کی کشش آج بھی کم نہیں ہوئی۔ سیاح دور دور سے اس’’قیدی درخت‘‘ کو دیکھنے آتے ہیں اور اس عجیب فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔
ایک مقامی شہری کا کہنا ہے، اگر اس درخت نے اتنے سال سزا کاٹ لی ہے، تو اب اسے رہا کر دینا چاہیے‘
یہ درخت صرف ایک کہانی نہیں سناتا بلکہ ایک سوال بھی چھوڑ جاتا ہے۔ جب اختیار اور طاقت نشے میں بدل جائے تو انسان کس حد تک جا سکتا ہے؟ اور تاریخ کیسے ایسے عجیب قصے اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔
آج یہ درخت خاموش کھڑا ہے نہ کوئی شکایت، نہ کوئی آواز۔ بس زنجیروں میں جکڑا ہوا، جیسے اپنی کہانی خود سنا رہا ہو۔