چین کے خوبصورت ساحلی شہر سانیا میں منعقدہ ایشین بیچ گیمز میں پاکستانی ایتھلیٹس نے اپنی مہارت کا لوہا منواتے ہوئے مجموعی طور پر 3 تمغے حاصل کر لیے ہیں۔
پاکستان نے ریسلنگ کے شعبے میں 2 سلور (چاندی) اور کبڈی کے مقابلے میں 1 برانز (کانسی) کا میڈل جیت کر ایونٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔ اگرچہ فائنل مقابلوں میں پاکستانی پہلوانوں کو سخت مقابلے کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کی رسائی نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
ریسلنگ کے معرکے اور تمغوں کی تفصیل
اسد اللہ کی شاندار کارکردگی: 80 کلو گرام کیٹیگری کے فائنل میں پاکستان کے اسد اللہ نے غیر معمولی کھیل پیش کیا۔ فائنل معرکے میں ان کا مقابلہ ایرانی پہلوان سے ہوا، جہاں سخت مقابلے کے بعد انہیں شکست ہوئی اور انہوں نے سلور میڈل اپنے نام کیا۔
انعام بٹ کا سلور میڈل
پاکستان کے مایہ ناز اور تجربہ کار پہلوان انعام بٹ 90 کلو گرام کیٹیگری کے فائنل میں ایک بار پھر اپنی صلاحیتیں دکھانے میں کامیاب رہے۔ فائنل میں ایرانی حریف نے انعام بٹ کو چت کر کے گولڈ میڈل جیتا، جبکہ انعام بٹ کے حصے میں سلور میڈل آیا۔
برانز میڈل کی جنگ
70 کلو گرام کیٹیگری میں کانسی کے تمغے کے لیے ہونے والے مقابلے میں پاکستان کے محمد عبداللہ کو کرغزستان کے پہلوان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کبڈی کے مقابلوں میں بھی پاکستانی ٹیم نے اپنی روایتی گرفت برقرار رکھی اور ایونٹ میں برانز میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
ایشین بیچ گیمز اور پاکستان کی تاریخ
ایشین بیچ گیمز ایشیا میں ساحلی کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ ہے جس میں روایتی کھیلوں کو ریت (بیچ) پر کھیلا جاتا ہے۔ پاکستان میں ’بیچ ریسلنگ‘ یا ریت پر کشتی کا فن بہت قدیم ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے اس ایونٹ میں تمغوں کا مضبوط امیدوار رہا ہے۔
انعام بٹ اس سے قبل بھی ورلڈ بیچ گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے متعدد گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔ وہ پاکستان میں بیچ ریسلنگ کے سفیر سمجھے جاتے ہیں۔
ایشیا میں ریسلنگ کے شعبے میں ایران کو ایک عالمی قوت مانا جاتا ہے۔ فائنل مقابلوں میں پاکستانی پہلوانوں کا ایرانی حریفوں سے ٹکرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب ایشیا کی ٹاپ ٹیموں میں شامل ہے۔
کارکردگی کا جائزہ اور مستقبل کے امکانات
سانیا میں حاصل ہونے والے ان تمغوں کا اگر تکنیکی جائزہ لیا جائے تو چند اہم پہلو سامنے آتے ہیں کہ پاکستان کے دونوں سلور میڈلسٹس کو فائنل میں ایرانی پہلوانوں سے شکست ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی پہلوانوں کو گولڈ میڈل تک پہنچنے کے لیے ایرانی تکنیک اور دفاعی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے خصوصی ٹریننگ کی ضرورت ہے۔
کبڈی پاکستان کا اپنا کھیل ہے، جہاں برانز میڈل حاصل کرنا ایک اعزاز تو ہے مگر شائقین پاکستان سے گولڈ یا کم از کم سلور کی توقع رکھتے تھے۔ اس شعبے میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔
پاکستان کے پاس کراچی اور گوادر جیسے طویل ساحل موجود ہیں۔ اگر حکومت ان کھلاڑیوں کو مقامی سطح پر ایسی ہی ریتلی پچز اور جدید سہولیات فراہم کرے تو ایشین اور ورلڈ گیمز میں گولڈ میڈلز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔