حکومت نے ملک میں گھر بنانے کے لیے قرضوں کے نظام کو آسان اور تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عام لوگوں کو اپنا گھر بنانے میں سہولت مل سکے۔ نئے اقدامات کے تحت ہاؤسنگ لون لینے کا عمل زیادہ شفاف اور کم وقت میں مکمل کیا جائے گا۔
نئی پالیسی کے مطابق بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہاؤسنگ قرض کی درخواستوں کو زیادہ سے زیادہ 15 ورکنگ دنوں میں مکمل کریں تاکہ لوگوں کو طویل انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ قرض لینے والے شخص کی آمدن کو بنیاد بنایا جائے گا اور اس کی ماہانہ آمدن کے مقابلے میں قرض کا بوجھ 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا تاکہ قرض کی واپسی آسان ہو سکے۔
حکومت نے جائیداد کی ویلیوایشن کے اصولوں میں بھی تبدیلی کی ہے۔ اب 50 لاکھ روپے تک کی جائیداد کی اندرونی جانچ کی جا سکے گی جبکہ اس سے زیادہ قیمت والی جائیداد کے لیے منظور شدہ ویلیوایٹر کی رپورٹ لازمی ہوگی۔