امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور خطے میں بحری راستوں کی آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئے عالمی اتحاد کی تشکیل کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی چین کو محفوظ بنانا اور تیل و گیس کی ترسیل کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھنا بتایا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دنیا بھر میں موجود امریکی سفارت خانوں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے متعلقہ ممالک کو اس نئے مجوزہ معاہدے کا حصہ بننے پر آمادہ کریں۔ اس منصوبے کے تحت ایک عالمی فریم ورک تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے جس کا نام “میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے۔
اگر یہ مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے کی سیکیورٹی پالیسیوں پر اثر پڑے گا بلکہ عالمی توانائی منڈی اور تجارتی راستوں کے مستقبل پر بھی اہم نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سمندری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی گزرگاہوں میں آزادیِ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ عسکری کشیدگی یا ناکہ بندی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ ہفتے قبل یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور بین الاقوامی تجارت کے لیے محفوظ راستہ فراہم کر رہی ہے۔ تاہم حالیہ سفارتی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ اس خطے میں مستقل استحکام اور بحری تحفظ کے لیے ایک وسیع تر بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔