پاکستان میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث ٹیلی کام نظام شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہو رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ملک میں سیلولر کمپنیوں کے تقریباً 55 ہزار سے زائد ٹاورز موجود ہیں، جن میں سے 30 سے 40 فیصد ٹاورز ڈیزل کی عدم دستیابی کے باعث جزوی یا مکمل طور پر بند یا متاثر ہو چکے ہیں۔
ڈیزل کی قلت کے سبب تقریباً 20 ہزار سے زائد ٹاورز پر انٹرنیٹ اور موبائل سروسز میں شدید خلل پیدا ہوا ہے، جس سے صارفین کو رابطے اور آن لائن خدمات میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ٹیلی کام ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے اثرات براہِ راست کروڑوں صارفین پر پڑ رہے ہیں، جن میں تقریباً 6 کروڑ افراد انٹرنیٹ سروس کی خرابی سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 20 کروڑ سے زائد شہری ان نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہیں۔
موبائل ٹاورز کو مسلسل 24 گھنٹے چلنے کے لیے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جب بجلی بند ہو جائے یا لوڈشیڈنگ ہو، تو ٹاورز ڈیزل سے چلنے والے جنریٹرز پر منتقل ہو جاتے ہیں۔
سینیٹ کمیٹی کا نوٹس
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور آج ہونے والے اجلاس میں اس بحران کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔