اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ، ثناء یوسف کیس ٹرائل منتقل کرنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ، ثناء یوسف کیس ٹرائل منتقل کرنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں ٹرائل دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

فیصلہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جاری کیا، جس میں عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے جج پر لگائے گئے جانبداری اور بدتمیزی کے الزامات بےبنیاد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :عفت عمر کا دل کھول کر انکشاف، مالی مشکلات اور زندگی کی جدوجہد پر گفتگو

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ کی عدالت میں ہی جاری رہے گا اور اسے کسی دوسری عدالت منتقل نہیں کیا جائے گا۔فیصلے میں کہا گیا کہ بار بار التواء مانگنا انصاف کے عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہے اور اس سے ٹرائل غیر ضروری طور پر متاثر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :دانش تیمور کا نیا پروجیکٹ، خلیل الرحمان قمر کے ساتھ پہلی بار اسکرین شیئر کریں گے

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سرکاری خرچ پر وکیل کی فراہمی ملزم کا آئینی حق ہے تاکہ مقدمہ بروقت مکمل ہو سکے۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ ملزم کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے جج کے خلاف استعمال کی گئی زبان غیر مناسب اور عدالتی وقار کے منافی ہے۔

مزید کہا گیا کہ عدلیہ کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس طرح کے رویے سے انصاف کے عمل پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سجاد علی کا دو ٹوک جواب، بھارتی شہریت کی پیشکش ٹھکرا دی

یاد رہے کہ کیس کے ملزم عمر حیات نے درخواست دی تھی کہ مقدمے کا ٹرائل کسی دوسری عدالت میں منتقل کیا جائے، مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ موجودہ جج جانبدار ہیں۔تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام دلائل مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی اور واضح کیا کہ ٹرائل اپنے موجودہ فورم پر ہی جاری رہے گا۔

editor

Related Articles