امریکا کی کم قیمت فضائی سروس دینے والی معروف کمپنی سپرٹ ایئرلائنز نے مالی بحران کے باعث اپنے آپریشن مرحلہ وار بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے امریکی معیشت اور عالمی صورتحال، خصوصاً ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے معاشی اثرات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کو بچانے کے لیے طلب کیا گیا بورڈ اجلاس کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکا، جس کے بعد سپرٹ ایئرلائنز نے فوری طور پر آج شیڈول تمام پروازیں منسوخ کر دیں۔
ذرائع کے مطابق کمپنی پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار تھی تاہم حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور آپریشنل اخراجات بڑھنے سے صورتحال ناقابلِ کنٹرول ہو گئی۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس نے امریکی ایئرلائن انڈسٹری کو شدید متاثر کیا۔ سپرٹ ایئرلائنز جو کم لاگت پروازوں کے ماڈل پر کام کرتی تھی بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت کرنے میں ناکام رہی اور بالآخر دیوالیہ پن کی طرف چلی گئی۔
تازہ صورتحال کے بعد کمپنی کے تقریباً 17 ہزار ملازمین کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جو امریکی ایوی ایشن سیکٹر کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔
سپرٹ ایئرلائنز کا دیوالیہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ جنگی صورتحال کے معاشی اثرات اب امریکی کارپوریٹ سیکٹر تک پہنچ چکے ہیں، جہاں پہلے ہی مہنگائی، ایندھن بحران اور عالمی غیر یقینی صورتحال نے کاروباری ماحول کو متاثر کیا ہوا ہے۔ اس پیش رفت نے امریکی ایوی ایشن انڈسٹری میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور ماہرین مزید کمپنیوں کے دباؤ میں آنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایران جنگ اور عالمی جغرافیائی کشیدگی نے صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات نے امریکا جیسے بڑے معاشی ملک کی بعض اہم کمپنیوں کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔