ضلع باجوڑ کے علاقوں ماموند اور سلارزی میں مارچ اور اپریل کے دوران افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے چھ افسوسناک واقعات پیش آئے۔
افغان طالبان نے سرحد پار سے شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 9 بے گناہ شہری شہید اور 12 افراد زخمی ہو ئے جبکہ آٹھ رہائشی مکانات بھی تباہ ہو گئے۔
ضلع باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ضلع انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز نے فوراً بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا۔ زخمیوں کو ہنگامی طبی امداد دی گئی اور ابتدائی علاج کے بعد انہیں پشاور منتقل کیا گیا تاکہ ان کا مزید علاج کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، تباہ شدہ مکانات کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جلد ہی شہداء اور زخمیوں کے ورثاء کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ علاقائی مشران اور نوجوانوں سمیت مختلف مکاتب فکر کے افراد نے 6 اپریل 2026 کو شدید احتجاج کیا اور افغان فورسز کی اس قسم کی غیر ذمے دارانہ کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
اعلامیہ میں مزید کہا کہ ضلع انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے اس واقعے کے بعد صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔