وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ملک کو گزشتہ روز ایل این جی گیس موصول ہو چکی ہے، جس کے بعد بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ، ایل این جی کی بروقت فراہمی کے بعد ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، حالیہ دنوں میں گیس کی کمی کے باعث محدود وقت کے لیے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی، تاہم حکومت نے ذمہ دارانہ فیصلے کرتے ہوئے مہنگی بجلی سے عوام کو بچانے کو ترجیح دی۔
ان کا کہنا تھا کہ پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ 6000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ نظام کی بہتری کے لیے بروقت اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 13 اور 14 اپریل کو پانچ، پانچ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی، جبکہ 17، 18 اور 19 اپریل کو لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی۔ بعد ازاں 19 اپریل سے 29 اپریل تک لوڈ شیڈنگ کو کم کر کے دو سے ڈھائی گھنٹے تک محدود رکھا گیا۔
اویس لغاری نے کہا کہ ماضی میں نواز شریف کے دور میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم چھ سال بعد دوبارہ اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ، ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ گیس کی فراہمی میں کمی اور عالمی حالات تھے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ڈیزل یا فرنس آئل استعمال کیا جاتا تو بجلی کی قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی اور اس کا بوجھ صارفین پر پڑتا۔
اویس لغاری نے کہا کہ وزارت توانائی عوام کو یقین دلاتی ہے کہ مستقبل میں بھی بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رہیں گے۔