پنجاب حکومت نے پتنگ بازی کے حوالے سے نئے قواعد و ضوابط کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت اب چھتوں پر بھاگنے، کودنے اور کناروں سے لٹکنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نئے ضوابط کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پتنگ بازی صرف مضبوط اور محفوظ چھتوں پر کی جا سکے گی، اور ہر چھت کی چار دیواری کی اونچائی کم از کم ساڑھے 3 فٹ ہونا لازمی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ چھتوں پر گنجائش سے زیادہ افراد جمع کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ پتنگ بازی کے دوران چھتوں سے بھاگنے، کودنے یا جارحانہ انداز میں پتنگ لوٹنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کی پتنگ بازی کی حرکت ہمسایوں کے لیے پریشانی کا باعث بنے گی تو اسے قانوناً جرم تصور کیا جائے گا۔ اس ضمن میں اونچی آواز میں موسیقی، ڈی جے سسٹمز اور شور پیدا کرنے والے آلات کے استعمال پر بھی پابندی لگائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز (ڈی سیز) اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز (ڈی پی اوز) کو نئے ضوابط پر 100 فیصد عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ ان ضوابط کا مقصد پتنگ بازی کے دوران محفوظ ماحول فراہم کرنا اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بھی کہا کہ بچوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اس لیے بچوں کو بڑوں کی نگرانی کے بغیر چھتوں کے کناروں پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہدایت پر عملدرآمد ہر شہری، عمارت کے مالک اور منتظم کے لیے لازمی ہوگا، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ پتنگ بازی کے تمام مقامات پر فرسٹ ایڈ کٹ کی موجودگی اور اس تک آسان رسائی بھی ضروری ہوگی، تاکہ کسی بھی حادثے یا ہنگامی صورتحال میں شہری فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کر سکیں۔
یہ نئے قواعد 30 دسمبر 2026 تک نافذ العمل ہوں گے، جس کے بعد پنجاب بھر میں ان ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔