امریکا میں سامنے آنے والے ایک حالیہ سروے نے ایران کے خلاف پالیسی پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ، جہاں اکثریت نے اس اقدام کو غلط قرار دے دیا۔ واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور Ipsos کی جانب سے کیے گئے مشترکہ سروے کے مطابق 61 فیصد امریکی شہریوں کا ماننا ہے کہ ایران پر جارحیت ایک غلط فیصلہ تھا جبکہ صرف 36 فیصد افراد نے اس کی حمایت کی۔
سروے کے نتائج کے مطابق امریکی معاشرے میں اس معاملے پر واضح تقسیم پائی جاتی ہے۔ تقریباً 90 فیصد ڈیموکریٹس اور 71 فیصد آزاد حیثیت رکھنے والے افراد نے جنگ مخالف رائے دی جبکہ ریپبلکن پارٹی کے 19 فیصد افراد نے بھی اس اقدام کو غلط قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کے اس اہم معاملے پر عوامی سطح پر بے چینی پائی جاتی ہے۔
جب امریکی عوام سے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس پر بھی منقسم رائے سامنے آئی۔ 48 فیصد افراد نے کہا کہ امریکا کو ایران کے ساتھ کسی بھی صورت میں امن معاہدہ کر لینا چاہیے چاہے وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو جبکہ 46 فیصد نے رائے دی کہ بہتر ڈیل کے لیے دباؤ برقرار رکھا جائے چاہے اس کے لیے دوبارہ فوجی کارروائی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
مبصرین کے مطابق یہ صورتحال ماضی کی جنگوں سے مشابہت رکھتی ہے۔ 2006 میں عراق جنگ کے حوالے سے 59 فیصد امریکیوں نے اسے غلط قرار دیا تھا، جبکہ 1971 میں ویتنام جنگ کے بارے میں بھی اکثریت نے یہی مؤقف اختیار کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ سروے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی عوام طویل تنازعات اور جنگی پالیسیوں سے تھکن کا شکار ہو چکے ہیں اور اب سفارتی حل کو ترجیح دینے لگے ہیں۔