امریکا نے جرمنی سے 5,000 فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اس سلسلے میں امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے جرمنی سے فوجیوں کے انخلا کا حکم دے دیا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق فیصلہ یورپ سے بڑھتے اختلافات کے تناظر میں کیا گیا ہے، چند روز قبل صدر ٹرمپ نے جرمنی سے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کی دھمکی دی تھی، جب ان کا جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
مرز نے ایران کی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ 2 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امن مذاکرات میں امریکا کو ذلیل کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایران کے معاملے میں مداخلت کے بجائے یوکرین جنگ کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے۔
پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق فوجیوں کا یہ انخلا آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا۔
قبل ازیں جرمنی کا ممکنہ امریکی فوجی کمی پر ردعمل میں کہنا تھا کہ ہم تیار ہیں، جبکہ چانسلرمرز نے ٹرمپ سے تنازع کے باوجود مضبوط شراکت داری پر زوردیا۔
اپریل2026 ء کے وسط تک کے امریکی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق یورپ میں تقریباً 86 ہزار فوجی تعینات ہیں جن میں سے 39 ہزار جرمنی میں ہیں اور ان میں سے 5000 کی واپسی سے ان افواج کی تعداد میں تقریباً 13 فیصد کمی واقع ہوگی۔
اپنے دونوں ادوارِ صدارت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ بارہا جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یورپ واشنگٹن پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنی دفاعی ذمہ داریاں خود سنبھالے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ فیصلہ ان کے ان اتحادیوں سے ناراضگی کا نتیجہ ہے جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی آبنائے ہرمز میں امن برقرار رکھنے والی فورس میں حصہ لیا جسے ایرانی افواج نے بند کر رکھا ہے۔