وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے خیبرپختونخوا کی سیاست سے متعلق بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف بھی ناراضی بڑھ رہی ہے اور کچھ عناصر ان کی بھی چھٹی کرانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جیسے علی امین گنڈاپور نے ہماری بات سننا شروع کی تو انہیں ہٹا دیا گیا سہیل آفریدی بھی ہماری بات سنتے ہیں درست بات سمجھتے ہیں جس پر پارٹی کے بعض لوگ اب ان سے خوش نہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کوئی نیا وزیراعلیٰ لانا چاہتی ہے تو ضرور لے آئے یہ ان کا اندرونی فیصلہ ہے، تاہم پارٹی کے اندر جاری صورتحال واضح کر رہی ہے کہ سہیل آفریدی بھی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
رانا ثناء اللہ کے اس بیان نے پی ٹی آئی کے اندر ممکنہ سیاسی تبدیلیوں سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے منصب پر اندرونی اختلافات کی بازگشت پہلے ہی سنائی دے رہی ہے۔
انہوں نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا میں مثبت اور فعال کردار ادا کر رہا ہے اور سیاسی و عسکری قیادت خطے میں امن کے لیے مسلسل رابطوں میں ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نائب وزیراعظم اور عسکری قیادت کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز کھلے اور ایران سے متعلق کشیدگی کم ہو تاکہ عالمی اور علاقائی استحکام ممکن بنایا جا سکے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان جنگ کو کسی موقع کے طور پر نہیں بلکہ ایک چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے، اور خواہش یہی ہے کہ عالم اسلام کو ترقی اور مواقع امن کے ذریعے حاصل ہوں۔