ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کے درمیان عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں متحدہ عرب امارات کے اوپیک اور اوپیک پلس سے باضابطہ انخلاء نے تیل کی عالمی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے طویل عرصے سے اوپیک کی پیداوار کی حدود پر تحفظات کا اظہار کیا تھا کیونکہ ملک نے اپنی تیل کی پیداواری صلاحیت میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود مارکیٹ میں مطلوبہ حصہ حاصل نہیں کیا تھا۔ اب تنظیم سے علیحدگی کے بعد امارات کو یہ آزادی حاصل ہو گئی ہے کہ وہ اپنی مکمل پیداواری صلاحیت کے مطابق تیل عالمی منڈی میں فراہم کر سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات معمول پر آنے کے بعد یو اے ای روزانہ تقریباً 2 ملین بیرل اضافی تیل عالمی منڈی میں شامل کر سکتا ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر اس وقت مزید اہم ہو جاتی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہے اور عالمی منڈی میں قیمتیں پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق اوپیک کی کمزور ہوتی گرفت عالمی توانائی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کر رہی ہے جس سے تیل کی قیمتوں پر روایتی کارٹیل کا اثر کم ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں امریکا کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے کیونکہ امریکا پہلے ہی ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے اور موجودہ عالمی بحران میں اسے معاشی برتری حاصل ہو رہی ہے۔
یو اے ای کا یہ فیصلہ نہ صرف عالمی توانائی مارکیٹ کے توازن کو متاثر کرے گا بلکہ اس سے خلیجی خطے کی سیاسی اور معاشی صف بندیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اوپیک کے دیگر رکن ممالک مستقبل میں اسی نوعیت کے فیصلے کر سکتے ہیں، تاہم فوری طور پر تنظیم کے مکمل خاتمے کے بجائے اس کے اثر و رسوخ میں کمی کا امکان زیادہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق یہ پیش رفت خلیج تعاون کونسل کے اندر بھی نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے جہاں توانائی پالیسیوں اور علاقائی اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔