دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بڑے بحران اکثر چھوٹے واقعات سے شروع ہوتے ہیں۔ 1618 کا پراگ کا واقعہ بعد میں تیس سالہ جنگ میں بدل گیا، جبکہ پہلی عالمی جنگ بھی ایک غیر متوقع لمحے سے بھڑکی۔ اسی طرح برلن وال کا خاتمہ اور عرب بہار جیسے واقعات بھی اچانک لگے، مگر ان کے پیچھے حالات پہلے سے بن رہے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بحران اچانک نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے کئی عوامل ہوتے ہیں جیسے معاشی دباؤ، سیاسی کشمکش اور سماجی بے چینی۔ اب مصنوعی ذہانت اےآئیانہی عوامل کو سمجھنے اور پیٹرنز تلاش کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :میٹا نے ہیومنائیڈ روبوٹکس اسٹارٹ اپ خرید لیا، اےآئی کی دوڑ میں نیا موڑ
محقیق پیٹر ٹرچن اور ان کی ٹیم نے ہزاروں تاریخی ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جب عوام کی معاشی حالت خراب ہو، اشرافیہ میں طاقت کی دوڑ بڑھے اور ریاست مالی طور پر کمزور ہو جائے تو انقلاب اور خانہ جنگی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں حکومتیں اور ادارے بھی اےآئی کا استعمال شروع کر چکے ہیں۔ کچھ سسٹمز ماضی کے ڈیٹا، سوشل میڈیا، موسم اور سیٹلائٹ معلومات کو ملا کر ممکنہ حملوں یا تنازعات کی پیشگوئی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی اےآئی کی مدد سے ممکنہ بحرانوں اور آفات کے اثرات کا اندازہ لگا رہی ہے تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں سست انٹرنیٹ پر بڑا ایکشن، پی ٹی اے کی سروس بہتر بنانے کی ہدایت
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اےآئی ابھی مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں۔ ایلن ٹورنگ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق درست پیشگوئی کے لیے معیاری اور مکمل ڈیٹا درکار ہوتا ہے جو اکثر دستیاب نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ’بلیک سوان‘ یعنی اچانک اور غیر متوقع واقعات کی پیشگوئی اب بھی مشکل ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ماہرین خود اے آئی کو بھی ایک ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر اےآئی سے جڑا معاشی بلبلا پھٹ گیا یا اس کا غلط استعمال ہوا تو یہ خود ایک عالمی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ اےآئی ابھی مستقبل کو مکمل طور پر نہیں دیکھ سکتی، مگر یہ خطرات کو پہلے سمجھنے اور ان کے اثرات کا اندازہ لگانے میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

