امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے نک اسٹیورٹ کو اپنی خصوصی مذاکراتی ٹیم کا حصہ بنا لیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نک اسٹیورٹ کی اس اہم عہدے پر تعیناتی سابق صدارتی مشیر جیرڈ کشنر کی خصوصی سفارش پر عمل میں لائی گئی ہے۔
نک اسٹیورٹ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں محکمہ خارجہ سمیت مختلف کلیدی عہدوں پر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں ایران سے متعلق پیچیدہ امور کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
نک اسٹیورٹ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے لابنگ شعبے سے بھی وابستہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ خطے کی سیاسی اور عسکری حرکیات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ان کی ٹیم میں شمولیت کو تہران کے ساتھ نئے سرے سے روابط استوار کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کی 14 نکاتی تجویز کے خدوخال
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ 14 نکاتی امن تجویز 2 اہم مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں ’آبنائے ہرمز‘ کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ عالمی تجارتی منڈیوں میں استحکام آ سکے۔
اس کے ساتھ ہی ایران اور لبنان میں جاری جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ دوسرا مرحلہ پہلے معاہدے کے کامیاب نفاذ کے 30 دن بعد شروع ہوگا، جس کا بنیادی محور ایران کا ’جوہری پروگرام‘ ہوگا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور امریکی حکمت عملی
گزشتہ چند برسوں میں ایران اور امریکا کے تعلقات شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں ایران پر ’انتہائی دباؤ‘ (میکسمم پریشر) کی پالیسی اپنائی گئی تھی، جس کے تحت جوہری معاہدے سے علیحدگی اور سخت معاشی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔
تاہم اب 2026 میں بدلی ہوئی علاقائی صورتحال، بالخصوص لبنان اور شام میں جاری تنازعات کے تناظر میں، دونوں ممالک سفارت کاری کی میز پر واپس آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جیرڈ کشنر کا اس عمل میں پس پردہ کردار انتہائی اہم ہے، کیونکہ وہ ’ابراہم اکارڈز‘ کے ذریعے پہلے ہی خطے کے کئی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کروا چکے ہیں ‘۔
کیا نک اسٹیورٹ کی شمولیت سے ڈیڈ لاک ختم ہوگا؟
امریکی مذاکراتی ٹیم میں نک اسٹیورٹ کا انتخاب اسٹرٹیجک لحاظ سے انتہائی معنی خیز ہے۔ نک اسٹیورٹ کا پس منظر ’ہارڈ لائنر‘ اداروں سے رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکا کے مفادات پر سمجھوتہ کیے بغیر سخت شرائط منوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایران کا 2 مرحلوں پر مشتمل منصوبہ کچھ ’لواوردو‘ (گِیو اینڈ ٹیک) کی پالیسی معلوم ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میں بحری راستے کھول کر معاشی ریلیف حاصل کرنا اور دوسرے مرحلے میں جوہری پروگرام پر بات کرنا ہو سکتا ہے۔
لبنان میں جاری جنگ کا تذکرہ ظاہر کرتا ہے کہ اب مذاکرات صرف جوہری ہتھیاروں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی اور ’پراکسی وار‘ کے خاتمے کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔