متحدہ عرب امارات نے عالمی توانائی کی سیاست میں ایک بڑا دھماکہ کرتے ہوئے پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ’اوپیک‘ اور ’اوپیک پلس‘ کے بعد اب ’عرب پیٹرولیم ایکسپورٹ تنظیم‘ سے بھی علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ایجنسی نے یو اے ای حکام کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق 1 مئی 2026 سے ہو گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد اپنی تیل کی پیداوار بڑھانا اور توانائی کی حکمتِ عملی کو مکمل طور پر خود مختار بنانا ہے۔
یو اے ای اب اپنی مقامی توانائی کی پیداوار میں تیز رفتار سرمایہ کاری اور طویل المدتی معاشی وژن پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے۔ اس اعلان کو عالمی منڈی میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رسد پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اوپیک اور اوپیک پلس کا سفر
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ’اوپیک‘ کا قیام 1960 میں عمل میں آیا تھا، جس کا مقصد رکن ممالک کے مفادات کا تحفظ اور تیل کی قیمتوں میں استحکام لانا تھا۔
اس تنظیم کے کلیدی ارکان میں سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل رہے۔ 2016 میں ’اوپیک پلس‘ کی بنیاد رکھی گئی جس میں روس سمیت دیگر غیر اوپیک ممالک کو بھی شامل کیا گیا تاکہ عالمی رسد پر کنٹرول مزید سخت کیا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے ان تنظیموں کا فعال رکن رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں پیداواری کوٹے پر اختلافات نے اس علیحدگی کی راہ ہموار کی ہے۔
یو اے ای کا ’آزادانہ‘ معاشی وژن
متحدہ عرب امارات کا ان تنظیموں سے نکلنا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہری اسٹرٹیجک چال ہو سکتی ہے، یو اے ای نے حالیہ برسوں میں اپنی تیل نکالنے کی صلاحیت میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔
اوپیک کی پابندیوں کی وجہ سے وہ اپنی پوری صلاحیت کے مطابق تیل نہیں بیچ پا رہا تھا۔ اب وہ آزادانہ طور پر زیادہ تیل بیچ کر اپنی معیشت کو مزید مستحکم کر سکے گا۔
یو اے ای اپنے ’وژن 2031‘ کے تحت تیل پر انحصار کم کر کے دیگر شعبوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ زیادہ پیداوار سے حاصل ہونے والا سرمایہ جدید ٹیکنالوجی اور سبز توانائی کے منصوبوں میں لگایا جائے گا۔
یو اے ای کے اس فیصلے سے اوپیک کی گرفت کمزور ہو سکتی ہے۔ اگر دیگر ممالک نے بھی اس نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے، کیونکہ اب مقابلہ ’محدود رسد‘ کے بجائے ’زیادہ فروخت‘ پر ہو گا۔