اوپیک پلس کے سات رکن ممالک نے تیل کی عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے پیداوار میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ ان ممالک میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان شامل ہیں۔ یہ فیصلہ یواے ای کے تنظیم سے علیحدگی کے بعد ہونے والے ورچوئل اجلاس میں کیا گیا، جو 3 مئی کو منعقد ہوا۔
اجلاس میں عالمی تیل مارکیٹ کی صورتحال اور مستقبل کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اپریل 2023 میں اعلان کردہ رضاکارانہ اقدامات کے تحت یومیہ ایک لاکھ اٹھاسی ہزار بیرل کی پیداوار میں رد و بدل کیا جائے گا۔ یہ نئی ایڈجسٹمنٹ جون 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق یہ رضاکارانہ اقدامات موجودہ عالمی معاشی اور تیل مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق جزوی یا مکمل طور پر واپس بھی لیے جا سکتے ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر پیداوار میں اضافہ یا کمی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
رکن ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پیداوار میں لچک برقرار رکھی جائے تاکہ عالمی طلب اور رسد کے مطابق فوری فیصلے کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نومبر 2023 میں کیے گئے رضاکارانہ اقدامات کی واپسی پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام رکن ممالک تعاون کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے پابند ہیں اور زائد پیداوار کی صورت میں اس کی مکمل تلافی کی جائے گی۔ اس عمل کی نگرانی مشترکہ وزارتی کمیٹی کرے گی۔
اوپیک پلس ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہر ماہ اجلاس منعقد کریں گے تاکہ عالمی منڈی کی صورتحال، معاہدے پر عملدرآمد اور تلافی کے نظام کا جائزہ لیا جا سکے۔ اگلا اجلاس 7 جون 2026 کو ہوگا۔