کبھی کبھی کوئی چیز اچانک زندگی میں آتی ہے اور لگتا ہے بس یہی وہ چیز تھی جس کی کمی تھی ایکس ٹِنک ایکس3 بھی کچھ ایسا ہی تجربہ ثابت ہوا۔ ایک چھوٹا سا، میگ سیف سے جڑنے والا ای اِنک ریڈر جو آئی فون کے پیچھے ایسے لگتا ہے جیسےپاپ ساکٹ۔
پہلا تاثر یہی تھا کہ شاید یہ چھوٹا سا ڈیوائس سوشل میڈیا کی عادت کم کر دے۔ خیال یہ تھا کہ جیسے ہی فون اٹھاؤں، ٹک ٹاک یا انسٹاگرام کھولنے کے بجائے بس فون پلٹوں اور کتاب پڑھنا شروع کر دوں۔
یہ بھی پڑھیں :مریخ پر شہر بساؤ، تب ہی اربوں کے شیئرز پاؤ، سپیس ایکس کا نیا چیلنج
اس تجربے کے لیے ایک صارف کو چنا گیا جو پہلے ہی سال میں تقریباً 50 کتابیں پڑھتاتھا لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا پر وقت زیادہ گزرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ایکس 3 سے امیدیں کافی بڑھ گئی تھیں کہ شاید یہ ایک سادہ مگر مؤثر حل بن جائے۔
فون پر پڑھنا کیوں مشکل لگتا ہے؟
اس نے کئی بارفون پر کتاب پڑھنے کی کوشش کی لیکن مسئلہ وہی رہا۔ ہر چند منٹ بعد نوٹیفکیشن یا کسی ریل کا لالچ توجہ توڑ دیتا ہے۔ اس کے برعکس ای ریڈر کی ای اِنک اسکرین جیسی کہ کنڈل میں ہوتی ہے، ذہن کو زیادہ سکون دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایلون مسک کا نیا اعلان، ایکس اب بنے گا آپ کا بینک بھی
ایکس 3کا تجربہ کیسا رہا؟
جب ایکس 3آخرکار ہاتھ میں آیا تو سب سے پہلے یہی فکر تھی کہ کیا یہ فون پر ٹھیک طرح فٹ ہوگا یا نہیں۔ کیونکہ پچھلا ماڈل ایکس 4 صرف بڑے فونز پر کام کرتا تھا۔ لیکن ایکس 3نے بغیر کسی مسئلے کے آئی فون کے ساتھ مضبوطی سے چپک کر یہ خدشہ ختم کر دیا۔
صرف دو گھنٹے میں اس پر کتابیں لوڈ کی گئیں اور اسے ایک بیس بال میچ میں بھی ساتھ لے جایا گیا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ ہجوم میں بیٹھ کر ایک سنجیدہ کتاب پڑھنا خود میں ایک منفرد تجربہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں:فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ صارفین کی بڑی مشکل حل

