ماہرین فلکیات نے نظامِ شمسی سے باہر دو ایسے دیو ہیکل سیارے دریافت کیے ہیں جن کی کثافت روئی کی مٹھائی ؔ(کاٹن کینڈی )سے بھی کم ہے۔ مشتری کے حجم جتنے یہ سیارے اب تک دریافت ہونے والے اپنی جسامت کے لحاظ سے ہلکے ترین سیارے قرار دیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی محقق جارج ڈرانسفیلڈ اور ان کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ یہ دونوں سیارے زمین سے تقریباً 1,110 نوری سال کے فاصلے پر ایک ستارے کے گرد گردش کر رہے ہیں۔
محققین کے مطابق ان سیاروں کی کثافت اتنی کم ہے کہ انہیں تازہ نکالی گئی شیونگ فوم سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سیارے زیادہ تر ہائیڈروجن اور ہیلیم گیس پر مشتمل ہیں، جبکہ ان کے حقیقی کیمیائی اجزا کی تصدیق مستقبل میں ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے کی جائے گی۔
یہ دونوں سیارے ناسا کے ٹیس خلائی مشن کے ذریعے دریافت کیے گئے، جبکہ زمین پر موجود طاقتور دوربینوں سے ان کے مدار اور کثافت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ناسا کے مطابق ایک سیارہ اپنے میزبان ستارے کا ایک چکر 139 دن میں مکمل کرتا ہے، جبکہ دوسرا 232 دن میں اپنا مدار مکمل کرتا ہے، جو اس قسم کے انتہائی ہلکے سیاروں کے لیے غیر معمولی طور پر طویل مدت سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ’’سپر پف‘‘ سیارے کائنات میں انتہائی نایاب ہیں۔ اب تک نظامِ شمسی سے باہر تقریباً 6,300 سیاروں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں صرف 40 سے بھی کم سپر پف سیارے شامل ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق ان منفرد سیاروں کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ مشتری جیسے دیو ہیکل سیارے کس طرح وجود میں آتے ہیں اور کائنات میں سیاروں کی تشکیل کا عمل کیسے ہوتا ہے۔