کوئٹہ میں بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی کے مسئلے نے سنگین صورتحال اختیار کرلی ہے، جس کے پیشِ نظر کیسکو نے نادہندگان کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں ایسے صارفین، جنہوں نے طویل عرصے سے اپنے واجبات ادا نہیں کیے ان کے کنکشن منقطع کیے جائیں گے اس سلسلے میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کو ادائیگی کیلئے باضابطہ نوٹسز بھی جاری کر دیے گئے ہیں،کیسکو حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی اداروں پر واجب الادا رقم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مارچ 2026 تک یہ بقایا جات تقریباً 47 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔
مختلف محکموں میں سب سے زیادہ واجبات سرکاری اداروں پر ہیں، جن میں پی ایس ای کے ذمے 22 ارب ب72 کروڑ روپے جبکہ محکمہ صحت پر4 ارب 16 کروڑ روپے واجب الادا ہیں،اسی طرح اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ9 ارب40کروڑ اور بلدیاتی اداروں پر تین ارب 35 کروڑ روپے کے بقایا جات موجود ہیں۔
وفاقی سطح کے ادارے بھی ادائیگیوں میں پیچھے ہیں اور ان پر مجموعی طور پر 3 ارب بارہ کروڑ روپے کے واجبات ہیں، جامعہ بلوچستان، الیکشن کمیشن، محکمہ جیل خانہ جات اور پولیس جیسے ادارے بھی بڑے نادہندگان میں شامل ہیں، جنہوں نے تاحال اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔
کیسکو انتظامیہ کے مطابق بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی نے نظام کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے،حکام نے واضح کیا ہے کہ نادہندگان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی ادارے یا فرد کو رعایت نہیں دی جائے گی ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر واجبات ادا نہ کیے گئے تو کنکشن منقطع کرنے کا عمل تیزی سے شروع کر دیا جائے گا تاکہ بجلی کے نظام کو مستحکم بنایا جا سکے۔