پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری آج سہ پہر 2 بجے ایک انتہائی اہم پریس کانفرنس کریں گے۔
یہ پریس کانفرنس ’معرکہ حق‘ کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہے، جس میں پہلی بار پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے سینیئر افسران بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس کو ملکی دفاعی تاریخ اور موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
پریس کانفرنس کے ممکنہ خدوخال
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس بریفنگ میں درج ذیل امور پر روشنی ڈالے جانے کا امکان ہے ایک یہ کہ گزشتہ سال دشمن کی جارحیت کے خلاف کیے گئے آپریشن کے نتائج اور اس کے قومی سلامتی پر اثرات رہے۔
پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے افسران کی موجودگی اس بات کی عکاس ہے کہ مستقبل کے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تینوں افواج کی ’جوائنٹ آپریشنل تیاری‘ مکمل ہے۔ بھارت کی حالیہ نقل و حرکت اور سرحدوں کی صورتحال پر مسلح افواج کا مشترکہ مؤقف کیا جائے۔
معرکہ حق اور یکجا دفاع
آج سے ٹھیک 1 سال قبل پاکستان نے ’معرکہ حق‘ کے ذریعے اپنی خود مختاری کا دفاع کیا تھا، اس معرکے میں پاک فضائیہ نے فضائی حدود کی حفاظت کی، پاک فوج نے زمینی سرحدوں پر دشمن کو لگام ڈالی اور پاک بحریہ نے سمندری حدود میں جارحیت کا راستہ روکا۔
یہ پہلی بار ہے کہ معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر آئی ایس پی آر کی جانب سے تینوں افواج کا مشترکہ بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے، جو قوم کے لیے ایک طاقتور پیغام ہے۔
تینوں افواج کی مشترکہ بریفنگ کے اسٹرٹیجک معنی
ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ بحریہ اور فضائیہ کے افسران کی موجودگی دشمن کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ پاکستان کا دفاع کسی ایک فورس تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مربوط اور ناقابلِ تسخیر نظام ہے۔
اس دن کو اس قدر اہمیت دینا ظاہر کرتا ہے کہ ’معرکہ حق‘ نے پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ’رد الفساد‘ یا ’ضربِ عضب‘ جیسا ہی بلند مقام حاصل کر لیا ہے۔
پریس کانفرنس میں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ تیاریوں پر بریفنگ کا مقصد قوم کو تحفظ کا احساس دلانا اور بیرونی سازشی عناصر کو تنبیہ کرنا ہے۔
یہ بریفنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ پاکستان اپنی فوجی کامیابیوں کو سفارتی سطح پر ’پوزیشن آف سٹرینتھ‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔