پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل عائشہ عمر نے کئی برس قبل اپنی نجی تصاویر کے لیک ہونے کے واقعے پر پہلی بار تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تصاویر ان کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تھیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں عائشہ عمر نے بتایا کہ وہ اپنی قریبی دوست اور اداکارہ ماریہ وسطی کے ساتھ تھائی لینڈ میں چھٹیاں گزار رہی تھیں جب ان کی چند نجی تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئیں۔
اداکارہ کے مطابق تصاویر میں وہ ساحل سمندر پر موجود تھیں۔ بعض تصاویر میں انہوں نے سوئمنگ سوٹ جبکہ دیگر میں موسمِ گرما کے ملبوسات پہن رکھے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد انہیں شدید تنقید اور منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
عائشہ عمر نے کہا کہ اس واقعے کے اثرات صرف ان کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے پیشہ ورانہ کیریئر پر بھی پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دور میں شوبز انڈسٹری کے بعض حلقوں میں خواتین کے بارے میں مخصوص سماجی تصورات پائے جاتے تھے، جس کے باعث انہیں بعض منصوبوں سے بھی محروم ہونا پڑا۔
اداکارہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کی نجی تصاویر یا معلومات کو اس کی اجازت کے بغیر عام کرنا پرائیویسی اور رضامندی کی واضح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اب ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ مل کر ذاتی معلومات اور تصاویر کے غیر قانونی استعمال کے خلاف آگاہی مہم میں حصہ لے رہی ہیں تاکہ لوگوں میں اس مسئلے کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔
عائشہ عمر کا کہنا تھا کہ اتنے سال بعد اس معاملے پر بات کرنے کا مقصد صرف اپنا تجربہ بیان کرنا نہیں بلکہ یہ پیغام دینا بھی ہے کہ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت اور اس کی معلومات کو بغیر اجازت پھیلانا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
اداکارہ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ متعدد صارفین نے عائشہ عمر کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے نجی معلومات کے تحفظ اور آن لائن پرائیویسی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔