امریکی دعوے غلط ثابت،ایران کی فوجی طاقت سے متعلق خفیہ تفصیلات منظرِ عام پر آ گئیں

امریکی دعوے غلط ثابت،ایران کی فوجی طاقت سے متعلق خفیہ تفصیلات منظرِ عام پر آ گئیں

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک اہم رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے جس نے جنگی صورتحال اور ایران کی عسکری و معاشی طاقت سے متعلق کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی اور شدید دباؤ کو کم از کم تین سے چار ماہ تک برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے بعد ہی اس کی معیشت پر بڑے اثرات مرتب ہونا شروع ہوں گے۔

امریکی اخبار کے مطابق سی آئی اے کی اس خفیہ رپورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کو بھی چیلنج کر دیا ہے جن میں وہ ایران کے جلد کمزور ہونے اور جنگ کے فوری خاتمے کی امید ظاہر کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادیوں کی شدید بمباری کے باوجود ایران نے اپنی فوجی صلاحیت کا بڑا حصہ محفوظ رکھا ہوا ہے۔ سی آئی اے کے اندازے کے مطابق ایران اب بھی اپنے تقریباً 75 فیصد موبائل میزائل لانچرز اور 70 فیصد میزائل ذخیرے کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایرانی عسکری ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا تجارتی جہازوں کیلئے بڑا اعلان،امریکا بھی ایک اور قدم پیچھے ہٹ گیا

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت نے زیرِ زمین قائم کئی میزائل تنصیبات کو دوبارہ فعال کر لیا ہے۔ تباہ شدہ میزائلوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ نئے میزائل بھی تیار کیے جا رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران طویل تنازع کیلئے اپنی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے زیادہ تر میزائل تباہ ہو چکے ہیں اور شاید صرف 18 یا 19 فیصد باقی بچے ہیں تاہم سی آئی اے کی رپورٹ امریکی صدر کے اس دعوے سے واضح طور پر مختلف تصویر پیش کر رہی ہے۔

امریکی حکام نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ثابت ہوئی ہے۔ ایک سینئر اہلکار کے مطابق مسلسل دباؤ اور حملوں کے باوجود ایرانی قیادت مزید سخت، منظم اور پرعزم ہو گئی ہے۔

 یہ رپورٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران کے خلاف صرف فوجی دباؤ مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہو سکا جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ بھی برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح جاری رہی تو امریکا اور ایران دونوں کو بالآخر مذاکرات اور سفارتی حل کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اس رپورٹ کے بعد نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا امریکا واقعی ایران کو جلد جھکانے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق ایران کی مزاحمتی صلاحیت اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ نے صورتحال کو امریکا کی توقعات سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔

editor

Related Articles