شہید مولانا ادریس کو خاموش کرانے کیلئے افغان طالبان کے پروپیگنڈا نیٹ ورک کی مسلسل مہم بے نقاب

شہید مولانا ادریس  کو خاموش کرانے کیلئے افغان طالبان کے  پروپیگنڈا نیٹ ورک کی مسلسل مہم بے نقاب

شہید مولانا ادریس کے خلاف افغان خوارج طالبان کے آفیشل سوشل میڈیا چینلز اور پروپیگنڈا نیٹ ورک کی مسلسل مہم کے انکشافات سامنے آنے کے بعد مذہبی و عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مولانا ادریس رحمہ اللّٰہ کو کافی عرصے سے افغان طالبان کی طرف سے دھمکی آمیز وائس میسجز اور پیغامات موصول ہورہے تھے، جن میں انہیں اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے اور خاموش رہنے کیلئے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :شیخ الحدیث مولانا ادریس کیس،تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی

 یاد رہے کہ شہید مولانا محمد ادریس حق گوئی، دینی مؤقف اور شدت پسند سوچ کے خلاف واضح آواز بلند کرتے تھے، جس کی وجہ سے وہ مسلسل نشانے پر رہے مولانا نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حق میں بھی بیان دیا تھا جس کے بعد افغان طالبان کو یہ گوارہ نہ ہوا اور وہ ان کی جان کے دشمن بن گئے اور ان کی شہادت تک انہیں دھمکی آمیز پیغامات بھیجتے رہے۔

پیغامات میں تند و تیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا گیا کہ “جمہوریت پر اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہے، آپ کس بنیاد پر اس نظام کی ترغیب دے رہے ہیں؟” ان پیغامات میں مولانا کو ماضی کے بعض علماء کا حوالہ دے کر متنبہ کیا گیا کہ وہ اپنے بیانات پر توبہ کریں اور ریاست کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔

اطلاعات کے مطابق افغان خوارج طالبان سے وابستہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مولانا ادریس کے خلاف باقاعدہ پروپیگنڈا مہم چلائی جاتی رہی، ان کی کردار کشی کی گئی اور ان کے خلاف اشتعال انگیز مواد پھیلایا جاتا رہا،ذرائع کا کہنا ہے کہ شہادت سے قبل تک انہیں مسلسل دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوتے رہے اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف نفرت انگیز مہم جاری رکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں :فتنہ الخوارج کی بزدلانہ کارروائیاں جاری، علما کرام اور سافٹ ٹارگٹس نشانے پر، شیخ محمد ادریس کی شہادت پر ملک بھر میں سوگ

مذہبی و سماجی حلقوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار  خوارجین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علما کو نشانہ بنانا اور اختلافِ رائے کی بنیاد پر دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہے۔

editor

Related Articles