ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنا کنٹرول مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک نئی بحری اتھارٹی قائم کر دی ہےجو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو اجازت نامے جاری کرنے اور ان سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی مجاز ہوگی۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق نئی قائم کی گئی اتھارٹی خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی کے نام سے کام کرے گی، بحری امور سے متعلق معروف ادارے ’لائیڈز لسٹ‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی نے حالیہ دنوں میں جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے نیا طریقہ کار نافذ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو سفر شروع کرنے سے پہلے خصوصی ٹرانزٹ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا، جبکہ اس کے ساتھ مقررہ فیس کی ادائیگی بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ جہازوں کو ایک تفصیلی فارم فراہم کیا جا رہا ہے جس میں جہاز کی ملکیت، انشورنس، عملے کی معلومات اور مجوزہ بحری راستے سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کی جا رہی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہشمند جہازوں کو ای میل کے ذریعے نئے قواعد و ضوابط ارسال کیے جا چکے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران نے 28 فروری سے اس اہم آبی گزرگاہ پر سخت کنٹرول نافذ کر رکھا ہے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور بعد ازاں ایرانی قیادت سے متعلق بڑے دعوؤں نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا تھا۔
بعد ازاں 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے باوجود حالات مزید کشیدہ ہوگئے جب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری ناکہ بندی شروع کردی جو تاحال جاری ہے۔