وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کا بوجھ کم کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین کو یکساں مالی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے اور ممکنہ طور پر قابلِ ٹیکس آمدنی کی حد بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
اس اقدام کا مقصد ان ملازمین کو ریلیف دینا ہے جو ریونیو کی مد میں ریٹیلرز، ہول سیلرز، برآمد کنندگان اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اگر تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے تو بہت سے ملازمین زیادہ ٹیکس سلیب میں چلے جائیں گے، جس کے نتیجے میں ان کی ہاتھ میں آنے والی آمدنی میں خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا۔ اسی لیے حکومت تنخواہوں اور پنشن کو موجودہ سطح پر برقرار رکھتے ہوئے ٹیکس میں رعایت دینے کے آپشن پر غور کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک سینیئر سرکاری عہدیدار نے کہاکہ ’اگر تنخواہوں میں اضافہ ملازمین کو زیادہ ٹیکس بریکٹ میں لے جائے اور ان کی حقیقی آمدنی میں کوئی خاص اضافہ نہ ہو تو پھر تنخواہیں بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس کی شرح میں کمی اور قابلِ ٹیکس آمدنی کی حد بڑھانے سے سرکاری ملازمین کو بغیر تنخواہ بڑھائے بھی مالی فائدہ حاصل ہوگا۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران تنخواہ دار طبقے نے 425 ارب روپے سے زیادہ ٹیکس ادا کیا، جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے تقریباً 200 ارب روپے سے دوگنا ہے۔ یہ رقم ہول سیلرز، ریٹیلرز اور برآمد کنندگان کے مجموعی ٹیکس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ 4 برسوں کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ نجی شعبے کی تنخواہیں مہنگائی اور سست معاشی ترقی کے باعث تقریباً جمود کا شکار رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ کا ٹیکس پالیسی دفتر اور بعض آزاد مشاورتی ادارے مختلف تجاویز پر کام کر رہے ہیں، جن پر 15 مئی سے شروع ہونے والے بجٹ مذاکرات کے دوران عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بات چیت کی جائے گی۔
اس کے علاوہ حکومت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے ترقیاتی بجٹ کو بھی محدود سطح تک کم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ٹیکس پالیسی، تنخواہوں اور ترقیاتی اخراجات سے متعلق حتمی فیصلے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد متوقع ہیں۔
گزشتہ سال تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے باعث وفاقی حکومت پر 170 ارب روپے سے زیادہ کا اضافی بوجھ پڑا تھا، جبکہ صوبائی حکومتوں پر اس کے اثرات اس سے بھی زیادہ تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس رقم کا کچھ حصہ ٹیکس ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے تو تنخواہ دار طبقے کو نمایاں سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ ’پی ای ڈی پی‘ منصوبوں پر کام کرنے والے ملازمین کے لیے حال ہی میں منظور شدہ تنخواہوں میں اضافہ برقرار رہے گا۔ گزشتہ ماہ حکومت نے ان ملازمین کی کم از کم تنخواہوں میں 20 سے 35 فیصد اضافے کی منظوری دی تھی، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
وزارت خزانہ کے مطابق ’پی ایس ڈی پی‘ ملازمین کی تنخواہوں میں آخری بار اپریل 2022 میں نظرثانی کی گئی تھی، جبکہ اس دوران انہیں سالانہ انکریمنٹ اور زیادہ سے زیادہ تنخواہوں میں کمی کا سامنا بھی کرنا پڑا، برخلاف دیگر سرکاری ملازمین کے جن کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔