بنوں میں پولیس چوکی پر حملے کے حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشتگردوں نے کی۔
دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق 9 مئی کو بنوں میں ہونے والے دہشتگرد حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے، بیان میں کہا گیا کہ تحقیقات، دستیاب شواہد اور تکنیکی معلومات سے یہ ثابت ہوا کہ حملے کے منصوبہ ساز افغانستان میں موجود تھے۔
🔊PR No.1️⃣1️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Demarche to Afghan Taliban Regime on Terrorist Attack on Police Post in Bannu
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 11, 2026
بیان کے مطابق واقعے کے بعد افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور احتجاجی مراسلہ بھی تھمایا گیاپاکستان نے افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس میں بھی افغان سرزمین پر دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر موجود ہے،پاکستان نے واضح کیا کہ اس بزدلانہ حملے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے دوست ممالک کی ثالثی میں افغان طالبان کے ساتھ متعدد مذاکرات کیے، تاہم افغان طالبان دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے، دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔