حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشتگردوں نے کی،کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، دفتر خارجہ

حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشتگردوں نے کی،کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، دفتر خارجہ

بنوں میں پولیس چوکی پر حملے کے حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشتگردوں نے کی۔

دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق 9 مئی کو بنوں میں ہونے والے دہشتگرد حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے، بیان میں کہا گیا کہ تحقیقات، دستیاب شواہد اور تکنیکی معلومات سے یہ ثابت ہوا کہ حملے کے منصوبہ ساز افغانستان میں موجود تھے۔

بیان کے مطابق واقعے کے بعد افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور احتجاجی مراسلہ بھی تھمایا گیاپاکستان نے افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں :سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں پولیس اسٹیشن فتح خیل پر خوارج کا خودکش حملہ ناکام بنا دیا

دفتر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس میں بھی افغان سرزمین پر دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر موجود ہے،پاکستان نے واضح کیا کہ اس بزدلانہ حملے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے دوست ممالک کی ثالثی میں افغان طالبان کے ساتھ متعدد مذاکرات کیے، تاہم افغان طالبان دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے، دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

editor

Related Articles