خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے پیش نظر گوادر پورٹ کی اسٹریٹجک اہمیت میں نمایاں اضافہ ہونے لگا ہے، جبکہ عرب ممالک نے متبادل تجارتی راستوں کے طور پر گوادر پورٹ کا استعمال بڑھانا شروع کردیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے قریب ترین پاکستانی بندرگاہ گوادر پورٹ پر ایک اور بڑا ٹرانس شپمنٹ جہاز لنگر انداز ہوگیا ہے۔ یوآن نامی جہاز آج صبح 10 بج کر 15 منٹ پر گوادر پورٹ پہنچا جس پر متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظبی اور کویت کا سامان موجود ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث عرب ممالک نے اپنے تجارتی سامان کو متبادل راستے کے طور پر گوادر منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔
جہاز پر 34 ہزار ٹن بلک کارگو جبکہ تقریباً 20 ہزار ٹن دیگر تجارتی سامان موجود ہے جسے مختلف مقامات تک منتقل کیا جائے گا۔
موجودہ صورتحال میں گوادر پورٹ خطے کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو پاکستان کی بندرگاہیں خصوصاً گوادر عالمی تجارت کیلئے اہم متبادل راستہ بن سکتی ہیں۔
گوادر پورٹ کی بڑھتی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان کیلئے معاشی مواقع پیدا کرسکتی ہیں بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی اہمیت میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مؤقف اور قراردادوں کی حمایت کرنے والے ممالک کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے، جس کے بعد عالمی شپنگ اور تیل کی منڈیوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔