کیا فتنہ الہندوستان دہشتگرد اب خواتین کو ڈھال بنا رہے ہیں؟ سرفراز بگٹی کی پریس کانفرنس میں سنسنی خیز انکشافات

کیا فتنہ الہندوستان دہشتگرد اب خواتین کو ڈھال بنا رہے ہیں؟ سرفراز بگٹی کی پریس کانفرنس میں سنسنی خیز انکشافات

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ایک انتہائی حساس اور بروقت کارروائی کے دوران بلوچستان سے ایک خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کر کے ملک کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا ہے۔

پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ گرفتار کی گئی لڑکی کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ دہشت گرد گروہ معصوم بچیوں کو تعلیم سے دور کر کے انہیں خودکش جیکٹس پہنانے جیسا مکروہ دھندہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں پائیدار امن کے لئے سول و عسکری قیادت کے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں، سرفراز بگٹی

انہوں نے کہا کہ اس بچی کو دہشت گردوں کے چنگل سے چھڑا کر انٹیلیجنس حکام نے انتہائی باعزت طریقے سے اس کے والد کے سپرد کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنا نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ یہ بلوچ روایات اور غیرت کے بھی خلاف ہے۔

دہشت گردی میں خواتین کا استعمال اور بدلتے ہتھکنڈے

بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے حکمتِ عملی میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے، ماضی میں بلوچ عسکریت پسندی میں خواتین کا براہِ راست لڑائی یا خودکش حملوں میں کردار نہ ہونے کے برابر تھا، تاہم حالیہ کچھ عرصہ سے سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کے لیے خواتین کو استعمال کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق، دہشت گرد اب معصوم لڑکیوں کو ان کے والدین کی جان لینے کی دھمکیاں دے کر زبردستی خودکش حملوں پر آمادہ کرتے ہیں، جو ان کی اخلاقی گراوٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

خواتین خودکش بمباروں کا سراغ لگانا سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، کیونکہ روایتی تلاشی کے عمل میں خواتین کو رعایت دی جاتی ہے، جس کا فائدہ دہشت گرد اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

دہشت گردوں کی مایوسی اور ریاست کی کامیابی

یہ واقعہ کئی حوالوں سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اسلام آباد جیسے حساس شہر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کو بلوچستان میں ہی ناکام بنا دینا ظاہر کرتا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کا نیٹ ورک کتنا فعال ہے۔ یہ کارروائی دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے لیے ایک بڑا دھکا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ’بلوچ روایات‘ کا ذکر کر کے دہشتگردوں کے بیانیے پر کاری ضرب لگائی ہے۔ بلوچ معاشرے میں خواتین کا احترام ایک اعلیٰ ترین قدر ہے اور انہیں خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنا دراصل بلوچ عوام کی ہمدردیاں کھونے کا باعث بن رہا ہے۔

لڑکی کو گرفتار کرنے کے بعد اسے سزا دینے کی بجائے ’باعزت طریقے سے والد کے حوالے کرنا‘ ریاست کے نرم روّیے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اقدام سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ریاست بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو سزا دینے کے بجائے انہیں بچانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔

Related Articles